غیرت کے نام پر قتل اور جسونت کی واپسی

    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

یہ قتل ضروری تھا!

’اگر یہ قتل ضروری تھا، لیکن اس کی سزا بھی ضروری ہے‘
،تصویر کا کیپشن’اگر یہ قتل ضروری تھا، لیکن اس کی سزا بھی ضروری ہے‘

دلی آج کل نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کے واقعات سے دہلی ہوئی ہے۔ گزشتہ تقریباً دس روز میں پانچ نوجوان اپنی جانیں کھو چکے ہیں۔ جرم صرف یہ کہ وہ ذات برادری یا گوتر (خاندان) کی پرواہ کیے بغیر محبت کر بیٹھے۔

شمالی ہندوستان میں غیرت کے نام پر قتل کوئی غیرمعمولی بات نہیں۔ جتنے معاملےمنظر عام پر آتے ہیں ان سے کہیں زیادہ کا کبھی ذکر ہی نہیں ہوتا۔ اس مرتبہ شور اس لیے زیادہ ہے کہ یہ قتل دلی میں ہوئے ہیں۔ اسی لیے ایک آرڈیننس جاری کرنے کی بات بھی ہو رہی ہے۔

لیکن غیرت کے نام پرجان لینے والے اسے جرم نہیں مانتے۔ جن لوگوں پر قتل کے ان تازہ واقعات کا الزام ہے، ان کے قریبی رشتہ دار سر عام سینہ ٹھوک کر کہہ رہے ہیں کہ جو ہوا، اچھا ہوا۔

’سماج کے لیے یہ مرڈر ضروری تھا، ہر چیز میں نوجوانوں کو آگے لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔۔۔ میں تو کہتا ہوں کہ (ان) نوجوانوں نے یہ بہت اچھا کام کیا ہے، معاشرے میں اس سے (اچھا) پیغام جائے گا۔۔۔ یہ کام انہیں بہت پہلے کر دینا چاہیے تھا، وہ تھوڑا لیٹ ہوگئے یہ قدم اٹھانے میں۔۔۔‘

اکیسویں صدی میں پیغام رسانی کا یہ انداز، یہ سوچ!

جناب، آپ کی نظر میں یہ قتل ضروری تھا، لیکن اس کی سزا بھی ضروری ہے۔

جسونت سنگھ بی جے پی میں واپس

جسونت سنگھ
،تصویر کا کیپشنبی جے پی نے محمد علی جناح کی تعریف پر جسونت سنگھ کو پارٹی سے خارج کر دیا تھا

افواہ تو بہت دنوں سے گرم تھی، لیکن اب قائد اعظم محمد علی جناح کے مداح جسونت سنگھ کی گھر واپسی ہوگئی ہے۔

جناح پر ان کی کتاب اور پارٹی سے ان کے اخراج کی کہانی تو آپ کو معلوم ہی ہوگی۔ مختصراً یاد دلا دیں کہ انہوں نے تقسیم ہند کے لیے جواہر لال نہرو اور سردار پٹیل کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

بی جے پی دو قومی نظریہ کی ہمیشہ سے مخالف رہی ہے اور تقسیم کی ذمہ داری مسلم لیگ اور جناح کے سر رکھتی ہے۔

اب دیکھنا یہ ہےکہ پارٹی میں واپسی کے بعد جسونت سنگھ اپنے نظریے میں تبدیلی کا بھی اعلان کرتے ہیں یا نہیں۔ اگر کرتے ہیں تو ان کی غیرت کو للکارا جائے گا، اگر نہیں تو بی جے پی کی شامت آئے گی!

فی الحال تو وہ نہ صاف چھپ رہے ہیں اور سامنے ہی آرہے ہیں۔ لیکن جلدی ہی انہیں کھل کر اس بارے میں بولنا پڑے گا، اور جب وہ پھر جناح اور سردار پٹیل کا موازنہ کریں گے، تو ہوسکتا ہے کہ دس مہینے پہلے کی تاریخ جلدی ہی پھر دہرائی جائے!

دلی اولمپکس کے لیے تیار

دلی کی وزیرِاعلٰی شیلا دکشت کا کہنا ہے کہ شہر اولمپکس کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔

شیلا جی، کامن ویلتھ گیمز میں صرف سو دن باقی ہیں اور برسات آنے میں ایک ہفتہ! اور ابھی کام کتنا باقی ہے یہ آپکو بھی معلوم ہے۔ یہ دعوی کرکے آپ کامن ویلتھ گیمز کی میزبانی سے دامن نہیں چھڑا سکتیں!