کشمیر:اخباروں کی اشاعت معطل

    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر

بھارتی کشمیر میں حکام کی پابندیوں کے خلاف مقامی میڈیا اداروں نے اخبارات کی اشاعت معطل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس دوران چار روز بعد سنیچر کو کرفیو میں نرمی کردی گئی ہے تاہم مختلف مقامات پر مظاہروں اور پولیس فائرنگ کے بعد دوبارہ کشیدگی پھیل گئی ہے۔

کشمیر
،تصویر کا کیپشناس ہفتے کشمیر میں صحافیوں پر پابندی عائد کردی گئی تھی

کشمیر ایڈیٹرز گِلڈ کے ایک ترجمان ڈاکٹر سیّد شجاعت بخاری نے بی بی سی کو بتایا:’'ہم نےاحتجاج کے طور پر اخبارات کی اشاعت کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ یہاں کے صحافیوں کو پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھانے کی آزادی نہیں دی جاتی ہے اور انہیں فورسز کی طرف سے زیادتیوں کا بھی سامنا ہے۔‘

ڈاکٹر بخاری نے بتایا کہ حکومت موجودہ صورتحال کو قابو کرنے میں ناکام ہوگئی ہے اور اس ناکامی کا نزلہ عام لوگوں کے ساتھ ساتھ مقامی صحافیوں پر گرایا جا رہا ہے۔

واضح رہے کشمیر سے قریب ایک سو روزنامےاور ہفتہ وار اخبارات اُردو اور انگریزی میں شائع ہوتے ہیں۔

چھ جولائی کو مزید چار افراد کی ہلاکت اور مظاہروں کے بعد حکومت نے پوری وادی میں فوج طلب کرلی تھی اور میڈیا سرگرمیوں پر بھی پابندی عائد کردی گئی تھی۔ اس دوران مختلف مقامات پر تیرہ صحافیوں کو پولیس زیادتیوں کا سامنا رہا۔ ان میں بیشتر فوٹو جرنلسٹ ہیں۔قابل ذکر ہے کہ مقامی انتظامیہ نے کشمیری صحافیوں کو دیئے گئے کرفیو پاسز کالعدم قرار دیئے ہیں جس کے بعد صحافی اور نامہ نگار گھروں تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔

اس دوران جمعہ کے روز بارھمولہ اور سرینگر کے مختلف علاقوں میں لوگوں نے کرفیو توڑنے کی کوشش کی تو پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ کی۔ پولیس کارروائی میں متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

واضح رہے علیٰحدگی پسندوں نے پہلے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ کرفیو میں نرمی ہوتے ہی وہ سڑکوں پر نکل کر حالیہ ہلاکتوں اور زیادیتوں کے خلاف احتجاج کریں۔

حکومت نے کرفیو میں نرمی کی مّدت سنیچر شام تک بڑھا دی ہے۔ گیارہ جون سے چھ جولائی تک مظاہرین کے خلاف پولیس اور نیم فوجی دستوں کی کارروائیوں میں خاتون سمیت پندرہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ اس سال جنوری سے اب تک مظاہروں اور فرضی جھڑپوں میں اٹھائیس افراد مارے گئے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار الطاف حسین نے بتایا ہے پلوامہ اور سوپور اضلاع میں ہندوستان مخالف احتجاج کے بعد دوبارہ کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔