بِہار:یرغمالی پولیس اہلکاروں کی رہائی

بھارتی ریاست بہار میں پولیس کا کہنا ہے کہ ماؤ نواز باغیوں نے ان تین پولیس اہلکاروں کو رہا کر دیا ہے جنہیں آٹھ دن قبل یرغمال بنایا گیا تھا۔
باغیوں نے گزشتہ پیر کو لکھی سرائے ضلع میں چار پولیس اہلکاروں کو ایک جھڑپ کے بعد یرغمال بنا لیا تھا اور ان میں سے ایک کو بعد ازاں ہلاک کر دیا گیا تھا۔
اس جھڑپ میں بھی سات پولیس اہلکار مارے گئے تھے۔
ایک یرغمالی کی ہلاکت کے بعد ماؤ نواز باغیوں نے بقیہ تینوں اہلکاروں کو رہا کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ہلاک ہونے والے اہلکار سب انسپکٹر تیتے کی لاش جمعہ کی صبح دریافت کی گئی تھی۔
باغیوں کے ترجمان اونیش نے بی بی سی کو فون پر بتایا تھا کہ ’یرغمال بنائے گئے پولیس اہلکاروں کے خاندان والوں کی گزارش کے علاوہ، بعض دانشوروں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور سوامی اگنی ویش جیسے لوگوں کے کہنے پر ہم ان پولیس اہلکاروں کو چھوڑ رہے ہیں لیکن ان پولیس والوں کو ہم حکومت یا پولیس کو نہیں بلکہ انکے خاندان والوں کو سونپیں گے‘۔
پولیس حکام کے مطابق ابھی پرساد یادو، رپیش کمار سنہا اور احسان خان کو پیر کی صبح رہا کیا گیا۔ بہار کے وزیراعلٰی نتیش کمار نے اہلکاروں کی رہائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’انت بھلا سو بھلا‘۔
خیال رہے کہ رواں برس ماؤ باغیوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں میں دو سو سے زائد اہلکار مارے جا چکے ہیں۔
بھارتی حکومت نے گزشتہ برس ماؤ باغیوں کے خلاف بڑا آپریشن شروع کیا تھا اور بھارتی وزیراعظم انہیں بھارت کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا اندرونی خطرہ قرار دے چکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی




















