کیرالا، تمل ناڈو اور پانڈیچری میں پولنگ

جنوبی ہندوستان کی ریاست کیرالا، تمل ناڈو اور پانڈیچری میں آج یعنی بدھ کو اسمبلی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے جارہے ہیں، جس کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیےگئے ہیں۔
صبح سات بجے جیسے ہی ووٹنگ کا عمل شروع ہوا بڑی تعداد میں لوگ ووٹ ڈالنے کے لیے جاتے ہوئے نظر آئے اور پولنگ مراکز پر لمبی قطاریں دیکھی گئی ہیں۔
بدھ کے روز ریاست تمل ناڈو کی دو سو چونتیس، کیرالا کی ایک سو چالیس اور پانڈیچری کی تیس اسمبلی سیٹوں کے لیے ووٹ ڈالے جارہے ہیں۔ اس کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیےگئے ہیں۔
ریاست تمل ناڈو میں تقریباً ساڑھے چار کروڑ رائے دہندگان ہیں جو سات سو تہتر امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔ اس میں وزیر اعلی ایم کرونا ندھی بھی شامل ہیں۔
ڈی ایم کے پارٹی کے صدر اور ریاست کے پانچ بار وزیراعلی رہ چکے ایم کرونا ندھی اس بار اپنے آبائی علاقے تریویور سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔
کرونا ندھی سنہ انیس سو ستاون سے انتخاب لڑتے آئے ہیں اور وہ کبھی بھی ہارے نہیں ہیں۔ تاہم ان کی عمر زیادہ ہے اور ماہرین کے مطابق یہ انکا آخری انتخاب ہوسکتا ہے۔
ڈی ایم کے اور کانگریس کے درمیان سمجھوتہ ہے اس لیے ڈی ایم کے ایک سو انیس، جبکہ کانگریس تریسٹھ سیٹوں پر انتخابات لڑ رہی ہے۔
سابق وزیر جے للتا اس محاذ کے مد مقابل ہیں اور مقابلہ سخت بتایا جارہا ہے۔ جے للتا کی پارٹی اے آئی ڈی ایم کے ایک سو ساٹھ نشستوں پر انتخاب لڑ رہی ہے اور باقی سیٹیں اس نے اپنی دوسری اتحادی جماعتوں کے لیے چھوڑی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ریاست کیرالا میں کل ایک سو چالیس سیٹیں ہیں اور تقریبا سوا کروڑ رائے دہندگان ہیں۔ کیرالا میں اٹھہتر خواتین سمیت کل نو سو اکہتر امیدوار ہیں۔
کیرالا میں بائیں بازو کی قیادت والا ایل ڈی ایف محاذ اقتدار میں ہے اور اس کا مقابلہ کانگریس کی قیادت والے محاذ یو ڈی ایف سے ہے۔ ایل ڈی ایف کی قیادت ریاست کے موجودہ وزیراعلی ایچوتا نندن کر رہے ہیں جن کی عمر ستّاسی برس کی ہے۔
مرکز کے زیر اہتمام علاقے پانڈیچری میں کل تیس سیٹیں ہیں۔ وہاں کی آبادی تریباً دس لاکھ ہے اور وہاں ایک سو ستّاسی امیدوار ہیں۔ یہاں پر کانگریس، بی جے پی، ڈی ایم کے اور اے آئی ڈی ایم کے کے درمیان مقابلہ ہے۔





















