پاکستان سے بات چیت جاری رہےگی، انڈیا

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشندونوں ملکوں کے درمیان بات چیت جاری رہیگی

بھارت نے کہا ہے کہ پاکستان اس کا پڑوسی ملک ہے اور وہ اپنے یہاں دہشتگردی کا ارتکاب کرنے والوں کو پکڑنے کے لیے جیکب آباد جیسی کارروائی کے حق میں نہیں ہے۔

بھارت کی حکومت کے اعلیٰ ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ جنگ کی باتیں کرنا آسان ہے لیکن یہ آخری راستہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ لوگوں کی اس مایوسی کو سمجھ سکتے ہیں کہ بھارت ابھی تک پاکستان میں واقع شدت پسندوں کو پکڑ نہیں سکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ القاعدہ، طالبان اور لشکر طیبہ جیسی شدت پسند تنطیموں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکی کارروائی سے پاکستان کے اقتدار اعلیٰ کی خلاف ورزی ہوئي ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ اقتدار اعلیٰ کی خلاف ورزی کے معمول کے زمرے میں نہیں آتا کیونکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ چل رہی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن پاکستان کے شہرایبٹ آباد میں اتنے برس تک رہ سکتے ہیں تو اس بات میں یقین رکھنا بالکل منطقی ہے کہ دوسرے مفرور دہشت گرد بھی وہیں ہونگے۔

حکومتی ذرائع نے یہ بھی کہا ہے کہ اسامہ بن لادن کی پاکستان میں ہلاکت کے واقعہ سے بھارت اور پاکستان کے درمیان بات چیت کے عمل پرکو ئی اثر نہیں پڑےگا۔

حکومت کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب منگل کو ایک سوال کے جواب میں فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل پی وی نائک نےکہا تھا کہ بھارت امریکہ کے طرز کے ’سرجیکل آپریشن کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘

تاہم انہوں نے اس کی مزید کوئی وضاحت نہیں کی تھی۔

بری فوج کے سربراہ نے بھی کہا ہے کہ ’اگر کبھی ایسا موقع آیا تو ہماری فوج کی تینوں شاخیں ایسا آپریشن کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔‘

حکومتی ذرائع نے کہاکہ دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کی جو تاریخیں طے ہوئی ہیں وہ جاری رہیں گی اور جو جون میں خارجہ سیکریٹری اور وزارت خارجہ کی سطح پر ہونے والی بات چیت کے ساتھ اختتام پذیر ہونگی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ امریکہ بھارت کی مدد کے لیے نہیں آئےگا ۔ بھارت کو پاکستان کے ساتھ اپنے مسائل خود حل کرنے ہونگے۔