مشرف پر مقدمہ لاحاصل عمل ہے؟

پرویز مشرف
،تصویر کا کیپشنمسلم لیگ نون جو سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف کارروائی کی سب سے بڑی حامی ہے۔

آج جب سابق صدر جنرل پرویز مشرف کو حکومت سے علیحدہ ہوئے پورا ایک سال ہوگیا ہے۔ بیشتر تجزیز نگاروں کا خیال ہے کہ صدر مشرف کو عدالت میں لانے کے لیے فوج کے کردار پر بحث کرنا ایک لاحاصل عمل ہے کیونکہ صدر مشرف سے جواب دہی کا فریضہ سیاست دانوں کو خود نبھانا ہے۔

جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے صدارت سے مستعفیْ ہونے کے بعد یہ بحث شروع ہوگئی کہ کیا ان کے خلاف آئین کی آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کی جائے اور یہ مطالبہ اس وقت زور پکڑگیا جب سپریم کورٹ نے تین نومبر سنہ دوہزار سات کو پرویز مشرف کی طرف سے ملک میں ایمرجنسی لگانے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دے دیا۔

مسلم لیگ نون جو سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف کارروائی کی سب سے بڑی حامی ہے اس کے سربراہ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے چودہ اگست کو اپنے خطاب میں کہا کہ ملک کو مارشل لا سے بچانا ہے تو سابق صدر کو سزا دینا ہوگی اور فوج جنرل مشرف سے ناطہ توڑ لے۔

نواز شریف کے اس بیان پر وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی کا موقف ہے کہ فوج کا جنرل پرویز مشرف کے خلاف کارروائی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی فوج کارروائی میں رکاوٹ بنے گی۔

مختلف تجزیہ نگاروں کی یہ رائے ہے کہ سابق صدر مشرف کےخلاف کارروائی میں قانونی اعتبار سے کوئی رکاوٹ نہیں ہے تاہم ایک بڑا سیاسی مسئلہ موجود ہے کہ کارروائی کرنے کی صورت میں فوج کا کیا درعمل ہوگا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیر اعظم کا یہ بیان کہ فوج مشرف کے خلاف کارروائی میں رکاوٹ نہیں بنے گی فوج سے پوچھ کر نہیں دیا گیا۔

دفاعی اور سیاسی تجزیہ نگار ڈاکٹر حسن عکسری رضوی کاموقف ہے کہ مشرف کے خلاف کارروائی پر سیاسی رہنما الجھن کا شکار ہیں کیونکہ بقول ان کے سیاستدان مشرف کا ٹرائل کرنے کی خواہش تو رکھتے ہیں لیکن ان کو فوج کا خوف ہے۔

ڈاکٹر عسکری کہتے ہیں کہ وزیر اعظم نے یہ بیان فوج سے پوچھ کرنہیں دیا اور یہ خدشہ اپنی جگہ موجود ہے کہ مشرف کے خلاف کارروائی پر فوج ناراض نہ ہو جائے۔ ان کے بقول سب سے اہم سوال یہ ہے کہ مشرف کے خلاف کارروائی سے کیا حاصل ہوگا کیونکہ نہ جمہوریت مشرف ٹرائل سے مضبوط ہوگی اور نہ ہی ٹرائل نہ کرنے کی صورت میں کمزور رہ جائے گی ۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی سیاست میں انتقامی عنصر بڑی اہمیت رکھتا ہے اور جنرل مشرف کے فوجی ایکشن پر مسلم لیگ نون کی حکومت برطرف ہوئی تھی اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ مشرف کے خلاف کارروائی ہو۔

وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی
،تصویر کا کیپشن پرویز مشرف کے خلاف کارروائی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی فوج کارروائی میں رکاوٹ بنے گی۔

ڈاکٹر حسن عسکری کے مطابق حکمران جماعت مشرف کے خلاف کارروائی نہیں کرنا چاہتی جب کہ ان کے خیال میں مسلم لیگ نون بھی اس معاملے پر منقسم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مشرف کے ٹرائل کے حوالے سے فوج کے بارے میں سابق اور موجودہ وزرائے اعظم کے جو بیانات سامنے آئے ہیں وہ اس دباؤ کی عکاسی کرتے ہیں جس کا سیاست دانوں کو سامنا ہے۔

دفاعی تجزیز نگار عائشہ صدیقہ کی رائے ہے کہ وزیر اعظم نے فوج کے بارے میں بیان دے کر اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کی ہے کہ فوج سابق صدر کا تحفظ کر رہی ہے جب کہ نواز شریف کا بیان ایک بین السطور حقیقت کو منظر عام پر لا رہا ہے۔

تجزیر نگار کا کہنا ہے کہ مشرف کے خلاف کسی بھی کارروائی میں فوج ایک اہم کردار کی حامل ہے کیونکہ مشرف کے خلاف کارروائی کرنے سے ملکی سیاست میں ایک نئی روایت پڑجائے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ ایک الیکشن کے بعد پارلیمنٹ مضبوط نہیں ہو جاتی اور اس کے لیے وقت درکار ہے۔ ان کے خیال میں مشرف کے خلاف کارروائی کرنے کے معاملہ میں اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے یہ معاملہ آگے نہیں بڑھ سکے گا اور فوج کو بھی مشرف کے خلاف کارروائی کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے کیونکہ ان کی رائے میں یہ سمجھنا بہت بیوقوفی ہوگی کہ آخری مرتبہ اقتدار میں آئی ہے اور آئندہ کسی آرمی چیف کی میز پر کوئی ’ کوئی کو پلان‘ نہیں ہوگا۔

ڈاکٹر عائشہ کہتی ہیں کہ اگر ’ملٹری کو‘ کے خلاف اب ٹرائل ہوجائے تو پھر آئندہ کے جرنیل کو بھی پریشانی ہوگی۔

سیاسی تجزیز نگار ڈاکٹر رسول بخش رئیس کے بقول وزیراعظم نے مشرف کے ٹرائل کی بابت فوج کے بارے میں بیان دے کر فوج کی صفائی پیش کرنے کی کوشش کی جب کہ نواز شریف کا بیان اس شک پر مبنی ہے جو سمجھتے ہیں کہ فوج مشرف کو تحفظ دے رہی ہے۔ ان کی رائے میں نواز شریف کا بیان عوامی نوعیت کا ہے اور سیاسی فراست سے عاری ہے۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف
،تصویر کا کیپشنکہ ملک کو مارشل لا سے بچانا ہے تو سابق صدر کو سزا دینا ہوگی اور فوج جنرل مشرف سے ناطہ توڑ لے۔

ڈاکٹر رئیس کے مطابق اگر حکمران جماعت کو سابق صدر کا ٹرائل کرنا ہے تو فوج اس میں مداخلت نہیں کرے گی۔

سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی کا کہنا ہے کہ نواز شریف کا یہ بیان کہ فوج مشرف سے ناطہ ختم کرلے، ایک ایسا مطالبہ ہے جس کا کوئی جواز نہیں کیونکہ بقول ان کے فوج کی طرف سے ایسا کوئی اعلان نہیں کیا گیا کہ پرویز مشرف کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ ان کے مطابق اہل سیاست کو یہ شوق ہے کہ فوج کو مختلف معاملات میں لپیٹا جائے اور یہ بیان بھی اس شوق کا مظہر معلوم ہوتا ہے۔

مجیب الرحمان شامی کہتے ہیں کہ فوج نے وزیر اعظم کو آ کر یہ نہیں کہا ہوگا کہ وہ سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف کارروائی نہ کریں۔ ان کے بقول یہ سیاست دانوں کا کام ہے کہ اگر وہ کارروائی کرنا چاہتے ہیں تو کریں۔