چہرے بدلنے سے نظام نہیں بدلا؟

پرویز مشرف
،تصویر کا کیپشنپرویز مشرف کے دور میں شروع ہونے والا عدالتی بحران حکمرانوں کی خواہشات کے برعکس اپنے منطقی انجام کو پہنچا۔

اٹھارہ اگست کو پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو مستعفی ہوئے ایک سال ہوگیا۔ یہ سال ان کے دور سے کتنا مختلف تھا، تھا بھی یا نہیں۔ اس کا اگر ایک مختصر سا جائزہ لیں تو صورتحال کچھ اس طرح سامنے آتی ہے کہ ’چہرے بدلنے سے نظام تو نہیں بدلا‘ لیکن بعض معاملات میں بہتری ضرور آئی ہے۔

اس ایک سال میں سب سے اہم دہشت گردی کے خلاف جاری آٹھ سالہ جنگ کی پارلیمان اور سیاسی جماعتوں کی بھرپور حمایت ہے۔ جس کے سبب مالاکنڈ میں فوجی آپریشن کی جزوی کامیابی ممکن ہوئی۔ جب کہ پرویز مشرف کے پورے دور میں ایسا اتفاق رائے نظر نہیں آیا۔

امریکہ کو بیت اللہ محسود گروپ کے خلاف کارروائی کے لیے رضا مند کیا گیا اور بیت اللہ محسود سمیت ان کے کئی حامیوں کو مار ڈالا گیا۔ سوات میں طالبان شدت پسند بظاہر پہلی بار پسپا نظر آتے ہیں۔

پرویز مشرف کے دور کی نسبت موجودہ پارلیمان بظاہر کچھ خود مختار اور متحرک نظر آئی لیکن وزیراعظم یوسف رضا گیلانی پارلیمان کی بالادستی کے بارے میں مطمئن نہیں ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں کہا ہے کہ پارلیمان اب بھی کمزور ہے۔

صدر پرویز مشرف کے دور میں شروع ہونے والا عدالتی بحران حکمرانوں کی خواہشات کے برعکس اپنے منطقی انجام کو پہنچا اور ملکی تاریخ میں پہلی بار عدلیہ کو وسیع آزادی اور خودمختاری ملی۔ جس کے بعد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں چودہ رکنی بینچ نے پرویز مشرف کے تین نومبر سنہ دو ہزار سات کے ایمرجنسی اقدامات کو غیر آئینی قرار دے کر پاکستان کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا۔ حکومت نے عدلیہ کے فیصلوں کا احترام کرکے سیاسی بالغ نظری کا مظاہرہ کیا۔

اقتصادی طور پر عالمی معاشی بحران کے تناظر میں صورتحال خدشات کے برعکس ہے۔ آئی ایم ایف سے قرضہ اور ’فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان‘ سے امداد ملنے کے بعد صورتحال خراب تر ہونے سے تو بچ گئی لیکن مہنگائی کا جن اب بھی حکومت کے قابو سے باہر ہے۔ آٹے، چینی اور کھاد سمیت اکثر اشیا کا بحران پیدا ہوا اور حکومت اُسے مصنوعی قرار دینے کے باوجود بہتری نہیں لاسکی۔ بجلی کا بحران ختم نہیں ہوسکا اور اربوں روپے استعمال کرنے کے بعد بھی حکومت وعدے کے مطابق دسمبر تک بجلی کا بحران حل نہیں کر پائی تو عوامی حمایت سے مزید محروم ہوگی۔

وزیرِاعظم
،تصویر کا کیپشنوزیراعظم یوسف رضا گیلانی پارلیمان کی بالادستی کے بارے میں مطمئن نہیں ہیں۔

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے جانے کے ایک برس بعد بھی آئین سترہویں ترمیم کا خاتمہ اور میثاق جمہوریت پر عمل میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوسکی۔

بلوچستان کی صورتحال میں بھی کوئی خاطر خواہ کامیابی حکومت کو حاصل نہیں ہوسکی۔ تاحال جنوبی افریقہ کے طرز پر سچائی کمیشن نہیں بن پایا۔ تاہم بلوچستان کے معاملات ملٹری انٹیلی جنس کے ہاتھوں سے نکل کی آئی ایس آئی کے ہاتھوں میں چلے گئے۔ غلام محمد بلوچ سمیت تین بلوچ نوجوانوں کا بہیمانہ قتل ہوا۔

ضلعی حکومتیں تا حال موجود ہیں۔ اگر اس نظام کی بساط لپیٹ دی گئی تو حکومت کے خلاف ایک اور نیا محاذ کھل سکتا ہے۔

ملک میں امن امان کی صورتحال مشرف دور ہی کی طرح بدتر ہے۔ سندھ اور جنوبی پنجاب کے اکثر علاقوں میں اغوا برائے تاوان کی وارداتیں، سیاسی اور مذہبی رہنماؤں اور کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ، خواتین کا غیرت کے نام پر قتل، ڈاکے، راہزنی اور کراچی سمیت مختلف شہروں میں سٹریٹ کرائم کم کرنے میں حکومت کامیاب نہیں ہوسکی۔