معاملہ شق چھ اور متفقہ قرارداد کا

- مصنف, اعجاز مہر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور مرکز میں اپوزیشن کی ایک بڑی جماعت مسلم لیگ (نواز) کے درمیان ایک بار پھر بظاہر سیاسی کشیدگی بڑھتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اس کی ایک جھلک بدھ کی شب قومی اسمبلی میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین توڑنے کے الزام میں آئین کی شق چھ کے تحت بغاوت کا مقدمہ بنانے کے سوال پر ہونے والی گرما گرم بحث میں بھی صاف نظر آئی۔
قومی اسمبلی میں قائد حزب مخالف چوہدری نثار علی خان نے پرویز مشرف کے احتساب کے لیے پارلیمان کی متفقہ قرارداد کی کوئی ضرورت نہ ہونے پر پیپلز پارٹی کو اس بارے میں مؤقف واضح کرنے کا کہا۔ اس کے جواب میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ’ہماری لیڈر بینظیر بھٹو کہتی تھیں کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے۔۔۔ لہٰذا ہم نے انتقام لے لیا اور میں بھی پانچ برس جیل میں رہا لیکن میں نے مشرف کو معاف کر دیا۔‘ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ اب بھی کہتے ہیں کہ سابق صدر کے خلاف بغاوت کا مقدمہ بنانے کے لیے اگر پارلیمان متفقہ قرارداد لائے تو حکومت مقدمہ درج کرنے کے لیے تیار ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ انہیں تمام جماعتوں نے اعتماد کا ووٹ دیا ہے اور وہ سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سترہ ماہ میں پارلیمان سے تمام قراردادیں متفقہ طور پر منظور ہوئی ہیں اور بجٹ بھی متفقہ طور پر منظور ہوا، اس لیے وہ کہتے ہیں کہ پرویز مشرف کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کے لیے پارلیمان سے متفقہ قرارداد ضروری ہے۔
حالانکہ چند ہفتے قبل جب وزیراعظم نے چوہدری نثار علی خان کے اُسی مطالبے کے جواب میں قومی اسمبلی میں متفقہ قرارداد کی بات کی تھی تو مسلم لیگ (ن) نے اس کا خیر مقدم کرتے ہوئے جہاں قرارداد کا متن تیار کرنے کے لیے کمیٹی بنائی وہاں دیگر جماعتوں سے مشاورت بھی شروع کی۔ لیکن پرویز مشرف کی تین اتحادی جماعتوں مسلم لیگ (ق)، متحدہ قومی موومنٹ اور آفتاب شیر پاؤ کی جماعت نے اپنے سیاسی گرو کے خلاف کسی قرارداد کا حصہ بننے سے انکار کیا تو مسلم لیگ (ن) کو سمجھ لگی کہ وزیراعظم نے انہیں لال بتی کے پیچھے لگادیا ہے۔
مسلم لیگ (ق) اور پی پی شیر پاؤ تو اس معاملے میں کچھ محتاط نظر آئے لیکن متحدہ قومی موومنٹ کے نمائندوں نے کھل کر پرویز مشرف کا دفاع کیا۔ وفاقی وزیر بابر غوری ہوں یا رکن اسمبلی حیدر عباس رضوی، انہوں نے تو کہا کہ پہلے ملک توڑنے والوں کے خلاف مقدمہ بنائیں اور حمودالرحمٰن کمیشن میں جن جرنیلوں کو بنگلہ دیش بننے کا ذمہ دار قرار دیا گیا پہلے انہیں سزا دیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی کیا کہ مارشل لاء تو ایوب خان، یحیٰ خان اور ضیاءالحق نے بھی لگایا لیکن سزا صرف پرویز مشرف کو کیوں؟
بدھ کی شب قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) اور متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین کے درمیان اس بارے میں جھڑپ بھی ہوئی اور ایک دوسرے کے خلاف الزامات بھی عائد کیے۔
پارلیمان میں فریقین کا گزشتہ روز جو مؤقف سامنے آیا ہے اس کے بعد پرویز مشرف کے خلاف بغاوت کا مقدمہ بننا بظاہر ایک خواب ہی دکھائی دیتا ہے۔ گزشتہ روز قومی اسمبلی کی کارروائی میں یہ عنصر بھی نظر آیا کہ مسلم لیگ (ن) جو وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سے تاحال براہ راست تصادم سے گریز کرتی رہی ہے اب اپنی تنقید کی توپوں کا رخ شاید ان کی طرف بھی کر دے۔
لیکن بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مسلم لیگ (ن) احتیاط سے کام لے گی کیونکہ مرکزی حکومت سے رابطے کا بظاہر ان کا واحد ذریعہ وزیراعظم ہیں اور وہ انہیں فی الحال نشانہ نہیں بنائیں گے۔ تاہم وہ حکومت پر دباؤ ضرور برقرار رکھیں گے لیکن سترہویں ترمیم کے خاتمے تک وہ حکومت سے معاملات نہیں بگاڑیں گے۔ کیونکہ صدر کے بعض اختیارات کے خاتمے کے ساتھ ساتھ تیسری بار وزیراعظم بننے پر عائد پابندی کا خاتمہ مسلم لیگ (ن) کی اولین ضرورت ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















