غیر قانونی اسلحہ جمع کرانے کے لیے کرفیو

ڈیرہ اسماعیل خان
،تصویر کا کیپشنڈیرہ اسماعیل خان میں گزشتہ ماہ سے فرقہ وارانہ تشدد اور اغواء برائے تاؤان کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

صوبہ سرحد کے جنوبی شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں فوج اور پولیس نے کالعدم اور شدت پسندوں تنظیموں سے غیر قانونی اسلحہ جمع کرانے کے لیے کرفیو نافذ کردیا ہے اور تمام تنظمیوں کو جمعرات کی شام تک غیر قانونی اسلحہ جمع کرانے کی ہدایت کی ہے بصورت دیگر ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائےگی۔

ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز اور پولیس نے غیر قانونی اسلحہ جمع کرانے کے لیے شہر کے چار مقامات پر مراکز قائم کیے ہیں جہاں کالعدم اور شدت پسند تنظیمیں غیر قانونی اسلحہ جمع کرارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب تک دو کالعدم تنظمیوں نے چند کلاشنکوف اور بندوقیں مقامی انتظامیہ کے حوالے کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلحہ مہم کے سلسلے میں تحصیل ڈیرہ اسماعیل خان، پراوہ اور کلاچی میں صبح سے مکمل کرفیو نافذ ہے اور علاقے میں تمام بازار ، تجارتی مراکز اور تعلیمی ادارے بند ہیں۔

پولیس اہلکار کے مطابق حکومت نے تمام کالعدم اور شدت پسند تنظیموں کو ڈیڈ لائن دی تھی کہ وہ ستائیس اگست کی شام تک اپنا تمام غیر قانونی اسلحہ اور گولہ بارود رضاکارانہ طور پر مقامی اتنظامیہ کے حوالے کر دے بصورت دیگر ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائےگی۔

خیال رہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان کا شمار صوبہ سرحد کے حساس ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ گزشتہ چند ماہ سے اس شہر میں فرقہ وارانہ تشدد اور اغواء برائے تاوان کے واقعات میں زبردست اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے شہر کے مکین شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

اس کے علاوہ شہر میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر کئی بم اور خودکش حملے بھی ہوچکے ہیں جس میں متعدد سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔ حکومت الزام لگاتی ہے کہ ان واقعات میں بعض شدت پسند اور فرقہ وارانہ تنظمیں ملوث ہیں۔