بن لادن امریکہ کی پہنچ میں تھا: رپورٹ

اسامہ بن لادن کو سن دو ہزار ایک میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد سے پکڑا نہیں جا سکا
،تصویر کا کیپشناسامہ بن لادن کو سن دو ہزار ایک میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد سے پکڑا نہیں جا سکا

امریکی سینیٹ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سن دو ہزار ایک کے اواخر میں اسامہ بن لادن افغانستان میں امریکہ کی پہنچ میں تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت مزید فوج بھیجنے کی درخواست کو مسترد کر دیا گیا جس سے القاعدہ کے رہنما کو اس بات کا موقع مل گیا کہ وہ بغیر کسی مزاحمت کے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں چلے جائیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بِن لادن کو ہلاک کرنے یا پکڑنے میں ناکامی کے دور رس نتائج برآمد ہوئے ہیں اور اسی سے افغانستان میں اب تک جاری مزاحمت کی بنیاد پڑی ہے۔

یہ رپورٹ ایک ایسے وقت آئی ہے جب صدر براک اوباما افغانستان میں مزید فوج بھیجنے سے متعلق اہم فیصلے کا اعلان کرنے والے ہیں۔

رپورٹ میں سابق امریکی صدر جارج بش کی انتظامیہ میں شامل اہم عہدے داروں اور اس وقت کے فوجی کمانڈروں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت جدید اسلحے سے لیس امریکی فوج کو پیچھے رکھا گیا اور فوجی کمانڈروں نے فضائی بمباری اور غیر تربیت یافتہ افغان ملیشیا پر انحصار کیا۔

’اپنی وصیت لکھنے کے دو دن بعد سولہ دسمبر سن دو ہزار ایک کے لگ بھگ اسامہ بن لادن اور ان کے ذاتی محافظوں کا دستہ بغیر کسی مزاحمت کے تورہ بورہ سے نکل کر پاکستان کے قبائلی علاقے میں غائب ہو گیا۔‘

خیال ہے کہ بِن لادن ابھی تک اسی علاقے میں چھپے ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت اس کام کو ختم کرنے میں ناکامی کی وجہ سے نہ صرف افغانستان کی موجودہ مزاحمت نے جنم لیا بلکہ پاکستان میں اس اندورنی شورش کے شعلے بلند ہوئے جن سے اس وقت ملک کے وجود کو خطرہ لاحق ہے۔

اگرچہ رپورٹ میں اس بات کو تسلیم کیا گیا ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ اس وقت بِن لادن کے ہلاک ہونے سے دنیا بھر میں شدت پسندی کا خطرہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا۔

تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جس فیصلے کے نتیجے میں بن لادن پاکستان فرار ہوئے اس نے انہیں ایک مضبوط علامتی کردار کے طور پر ابھرنے کا موقع دیا جس کے نام پر نا صرف دہشت گردی کے لیے فنڈ اکٹھے ہو رہے ہیں بلکہ جو مسلسل دنیا بھر میں شدت پسندوں کوعمل پر اکسا رہا ہے۔

رپورٹ میں بش انتظامیہ میں شامل اہلکاروں کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ بِن لادن کے صحیح محل وقوع کے بارے میں انٹیلی جنس غیر حتمی تھی۔

’ریکارڈ میں موجود مواد کے مطالعے، خفیہ حکومتی رپورٹوں کے جائزے اور مرکزی کرداروں سے انٹرویوز کے بات اس بات کا کوئی شک نہیں رہتا کہ تورہ بورہ میں اسامہ بن لادن ہماری پہنچ میں تھا۔‘