نوشکی، ڈیرہ بگٹی: بیس لاپتہ افراد واپس

بگٹی قبیلے سے تعلق رکھنے والے پندرہ افراد عید کی رات کو اپنے گھروں کو پہنچ چکے ہیں
،تصویر کا کیپشنبگٹی قبیلے سے تعلق رکھنے والے پندرہ افراد عید کی رات کو اپنے گھروں کو پہنچ چکے ہیں
    • مصنف, ایوب ترین
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

وزیراعظم سید یوسف رضاگیلانی کی جانب سے بلوچستان پیکیج کے بعد بلوچستان سے لاپتہ ہونے والے بیس سے زیادہ افراد اپنے گھروں کوپہنچ چکے ہیں اور بازیابی پانے والوں میں پندرہ کا تعلق بلوچستان کے علاقے ڈیرہ بگٹی سے ہے۔

تاہم بلوچستان کے زیادہ تر قوم پرستوں نے کہا ہے کہ یہ بازیابی اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر بھی نہیں ہے۔ ان قوم پرستوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں فوجی آپریشن کے دوران آٹھ ہزار افراد لاپتہ ہوئے ہیں۔

عید کے دن نوشکی اور ڈیرہ بگٹی میں بیس سے زیادہ افراد پہنچ گئے ہیں۔ ان میں نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر دوست محمد شوکت لانگو کے علاوہ بلوچ طلبہ تنظیم (بی ایس او آزاد ) کےسلیم لانگو اور اورنگزیب شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اس سال اپریل میں نوشکی سے اغواء ہونے والے میر احمد بگٹی بھی گھر پہنچ گئے ہیں لیکن رہائی پانے والوں نے ابھی تک اغواء کے بعد رہائی کے عمل کے بارے میں کچھ بتانے سے گر یز کیا ہے۔

دوسری جانب ڈیرہ بگٹی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق بگٹی قبیلے سے تعلق رکھنے والے پندرہ افراد عید کی رات کو اپنے گھروں کو پہنچ چکے ہیں۔

تاہم بلوچ ری پبلیکن پارٹی کے ترجمان شیر محمد بگٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ گھروں کو پہنچنے والوں کا تعلق ان کی جماعت سے نہیں ہے اور انہیں یہ تک نہیں معلوم کہ رہائی پانے والے کون لوگ ہیں۔

انہوں نے کہاکہ صرف بی آر پی کے تین سو سے زیادہ لوگ لاپتہ ہیں اور ان کے بارے میں معلومات انسانی حقوق کمیشن کے پاس موجود ہیں۔ شیر محمد بگٹی نے مذید کہا کہ ان کی تحر یک کسی کی رہائی یا بازیابی کے لیے نہیں بلکہ بلوچستان کی آزادی کے لیے ہے۔

ادھر کوئٹہ میں بلوچ بار ایسوسی ایشن کے صدر صادق رئیسانی نے بیس کے قریب لاپتہ افراد کے منظر عام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہزاروں لاپتہ افراد میں سے بیس کومنظرعام پر لانے کا عمل اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے۔

بلوچستان میں دوہزار پانچ میں شروع ہونے والے فوجی آپریشن کے بعد سے لے کر اب تک کوہلو ڈیرہ بگٹی کوئٹہ اور صوبے کے دیگر علاقوں سے سینکڑوں کی تعد اد میں نوجوان لاپتہ ہوئے ہیں جن میں اقبال بلوچ ڈاکٹر دین محمد، جلیل ریکی، جلات خان، سفر خان مر ی، حسن بنگلزئی، زاکر مجید اور کریم بلوچ جیسے کئی شامل ہیں لیکن کی بازیابی کے لیے ابھی تک حکومت کی جانب سے کوئی اقدام نہیں اٹھاگیا ہے۔

بلوچ قوم پرستوں نے کئی بار الزام لگایا ہے کہ ان بلوچوں کو پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے اٹھایا ہے مگر وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کئی بار ان الزامات کو غلط قرار دیتے ہوئے کہاتھا کہ لاپتہ ہونے والے واقعات میں خفیہ ایجنسیوں کا کوئی ہا تھ نہیں ہے۔ لیکن جمعرات کو وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں واضح طور پر کہا تھا کہ بلوچستان کے بلوچ اب گھروں کو پہنچنا شروع ہو جائیں گے۔

بلوچستان حکومت نے آٹھ سولاپتہ بلوچوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں فوجی آپریشن کے دوران بلوچ سردار نواب محمد اکبر بگٹی اور میر بالاچ مری کی ہلاکت کے بعد ان میں سے کچھ لوگ افغانستان اور عرب ممالک بھی جا چکے ہیں۔