آٹھ ’سی آئی اے ایجنٹوں‘ سمیت 13ہلاک

افغانستان میں ایک خودکش حملے اور بم دھماکے میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے آٹھ امریکی ایجنٹوں سمیت تیرہ غیر ملکی ہلاک ہوگئے ہیں۔
حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان فوج میں شامل ان کے ایک ساتھی نے یہ خودکش حملے کیا ہے۔
بدھ کی شام کو سی آئی اے کے ایجنٹ جنوب مشرقی افغانستان کے صوبے خوست میں ایک فوجی اڈے پر ہونے والے خودکش حملے کا نشانہ بنے تھے۔
طالبان کے ترجمان ذبیع اللہ مجاہد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خودکش حملہ آور نے فوجی یونیفام پہن رکھا تھا اور انھوں نے فوجی اڈے کی سکیورٹی کو دھوکہ دیتے ہوئے اڈے کی ورزش گاہ میں دھماکہ کر دیا۔
امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق سنہ انیس سو سینتالیس میں خفیہ ادارے کے قیام کے بعد سے لے کر اب تک نوے اہلکار ڈیوٹی کے دوران ہلاک ہوئے ہیں۔
ابتداء میں ہلاک ہونے والے افراد کو عام امریکی شہری بتایا گیا تھا تاہم بعد ازاں انہیں سی آئی اے کے ایجنٹ قرار دیا گیا تاہم ان افراد کی شناخت تاحال ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان ایئن کیلی کے مطابق ’ہمیں اس حملے میں جانی نقصان پر افسوس ہے اور ہم ہلاک شدگان کے اہلِ خانہ کو اطلاع دیے جانے تک مزید معلومات نہیں دے سکتے‘۔
ایک امریکی اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے پر بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والے امریکیوں میں یا تو سی آئی اے کے ایجنٹ یا ٹھیکے دار تھے تاہم اس بات کی ابھی تک نہ تو پینٹاگون اور نہ ہی سی آئی اے نے تصدیق کی ہے۔

پاکستان کی سرحد سے متصل خوست کا صوبہ گزشتہ ایک برس کے دوران شدت پسندوں کا کارروائیوں کا نشانہ بنتا رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر جنوبی افغان صوبے قندھار میں سڑک کے کنارے نصب ایک بم پھٹے سےکینیڈا کے چار فوجی اور ایک کینیڈین خاتون صحافی مارے گئے۔ یہ دو برس میں کسی ایک واقعے میں ہلاک ہونے کینیڈینز کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ ہلاک ہونے والی چونتیس سالہ صحافی کا نام مشیل لینگ بتایا گیا ہے اور وہ پہلی مرتبہ افغانستان گئی تھیں۔
خیال رہے کہ سنہ 2009 افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج کے لیے ہلاکتوں کے حوالے سے سب سے برا سال رہا ہے۔افغانستان میں آٹھ امریکی ایجنٹوں کی ایک ساتھ ہلاکت آٹھ سالوں میں سب سے بڑا نقصان ہے






















