جوہری توانائی سے بجلی کے خطرات

،تصویر کا ذریعہOther
- مصنف, عنبر شمسی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
جاپان میں زلزلے اور سونامی کے بعد، پاکستان میں بعض مبصرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ جوہری توانائی کے ذریعے بجلی کا حصول اس سے جڑے خطرات کے مقابلے میں کتنا فائدہ مند ہے۔
سونامی کے بعد جاپانی حکام کو انسانی بحران سے جوہری بحران کی جانب توجہ دینا پڑی ہے۔ فوکوشیما جوہری بجلی گھر میں کئی ہفتوں سے جاپانی حکام اس بحران پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک بین الاقوامی تھنک ٹینک کارنیگی اینڈاؤمنٹ سے وابستہ جوہری توانائی کے ماہر مارک ہبس نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کے باوجود کہ جاپان کا جوہری بجلی پروگرام دنیا بھر میں سب سے ترقی یافتہ مانا جاتا ہے، فوکوشیما کے حادثے کے بعد ان کو بہت سے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
’جاپان میں پچاس جوہری بجلی گھروں کو کئی سالوں سے چلایا جا رہا ہے۔ جاپان کے جوہری توانائی پیدا کرنے والے اداروں کا ڈھانچہ انتہائی ترقی یافتہ، بہترین منصوبہ بندی کا نمونہ اور مستقبل کی ضروریات اور خدشات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بنایا گیا ہے۔ پاکستان اور دنیا کے دیگر ممالک کو اس معیار سے سیکھنا چاہیے۔‘
تاہم، جاپان میں جوہری حادثے کے بعد دنیا بھر میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا جوہری توانائی کے تحت بجلی کی پیداوار محفوظ ہوسکتی ہے؟ جرمنی نے اپنے کئی ری ایکٹر بند کر دیے ہیں۔ امریکی جوہری ریگولیٹری اتھارٹی اپنے بجلی گھروں کا جائزہ لے رہی ہے۔ برطانیہ کے نائب وزیر اعظم نک کلیگ نے کہا ہے کہ سونامی کے بعد یہ واضح ہوگیا ہے کہ جوہری بجلی کے لیے حفاظتی انتظامات کے زیادہ اخراجات کی وجہ سے نئے جوہری بجلی گھروں کا مستقبل خطرے میں ہے۔
بھارت میں بھی جوہری بجلی گھروں کے بارے میں سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ اگر دنیا کے کئی ممالک میں یہ سوچ زور پکڑ رہی ہے یا کم از کم اس پر تبصرہ چل رہا ہے، تو پھر پاکستان میں اس کے متعلق کیا ہو رہا ہے۔
پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر اے ایچ نیئر کہتے ہیں: ’بھارت میں کچھ آوازیں ہیں لیکن پاکستان اور بھارت کی سویلین جوہری ٹیکنالوجی دفاعی جوہری ٹیکنالوجی کے ساتھ اتنی جڑی ہوئی ہے کہ آپ ان کے سویلین پروگرام کو جا کر سونگھنے کی کوشش بھی نہیں کر سکتے۔ اگر دیکھنے بھالنے کے لیے بہت قریب جائیں گے تو آپ کو فوراً سکیورٹی ایشوز کی بنیاد پر بھگا دیا جائے گا۔‘
دوسری جانب، جاپانی حادثے کے کئی ہفتوں بعد پاکستان نیوکلیر ریگولیٹری اتھارٹی نے ایک بیان میں کہا ہے: ’پی این آر اے نے پاکستان جوہری توانائی کمیشن کو ہدایت دی ہے کہ کراچی اور چشمہ میں جوہری بجلی گھروں کے حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا جائے، خاص کر کہ جوہری گھر کی جگہ، حفاظتی نظام، آپریٹرز کی تربیت اور ہنگامی صورتِحال میں تیاری کے حوالے سے۔‘
چشمہ جوہری بجلی گھر کے ری ایکٹر کے بارے میں مارک ہبس نے بی بی سی کو بتایا کہ پی این آر اے ایک ذمہ دار ادارہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
‘چشمہ ری ایکٹر کی منظوری پاکستانی ریگولیٹری اتھارٹی نے دی ہے، جو ایک ذمہ دار ادارہ ہے اور جو موجودہ حفاظتی مسائل سے اچھی طرح واقف ہے۔‘
تاہم، اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ چشمہ ری ایکٹرز کا ڈیزائن 1970 کے ہیں اور سوال یہ ہے کہ کیا یہ ری ایکٹرز زلزلہ، آگ یا ایسے کسی حادثے کو برداشت کر سکتے ہیں یا نہیں۔
ادھر ڈاکٹر اے ایچ نیئر اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کے خیال میں اصل مسئلہ چشمہ ری ایکٹرز کا ڈئزائن کا نہیں بلکہ اس کا مقام ہے۔

،تصویر کا ذریعہOther
’اس کے نیچے فالٹ لائنز ہیں اور تاریخ بھی بتاتی ہے کہ یہاں زلزلہ آنے اور زمین کے زلزلے سے ہلنے کے بھی خدشات ہیں۔ اور اگر زمین سرک جائے تو ری ایکٹر کے مختلف حصے الگ ہو سکتے ہیں جس سے حادثات ہو سکتے ہیں۔‘
ڈاکٹر نیئر نے سال دو ہزار میں امریکی یونیورسٹی پرنسٹن یونیورسٹی کے تعاون سے چشمہ جوہری بجلی گھر کی تحقیقاتی رپورٹ شائع کی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ خدا نخواستہ اگر کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو اس کے نتیجے میں تباہی کے اثرات وسیع پیمانے تک محسوس ہو سکتے ہیں۔
’اگر حادثے میں پگھلاؤ ہوا اور اس کے اوپر حفاظتی سٹرکچر میں دراڑ پڑگئی، تو تابکاری کے اخراج سے تباہی کافی ہوگی۔ خاص طور پر فصلیں کافی تباہ ہوں گی۔ اور چونکہ دریائے سندھ آب پاشی کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور اگر اس دریا میں تابکاری کا اخراج ہوتا ہے تو اس کے اثرات دور تک پھیلیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن اور پی این آر اے نے ان اندیشوں کو نظر میں رکھ کر اپنی طرف سے پورے حفاظتی انتظامات تو کیے، لیکن وہ پھر بھی چین کے ساتھ مل کر چشمہ میں دو اور ری ایکٹرز بنانے جا رہے ہیں۔
جاپانی حادثے کے بعد، چین نے اپنے جوہری بجلی پروگرام کو از سرے نو جائزے کے لیے معطل کر دیا ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ لہٰذا پاکستان کو چین کے بنائے گئے ری ایکٹروں کی اچھی طرح جانچ پڑتال کرنی چاہیے۔
اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ منصوبے کے تحت سال دو ہزار تیس تک پاکستان میں بجلی کی پیداوار میں جوہری بجلی کا حصہ صرف آٹھ فیصد یعنی آٹھ ہزار میگا واٹ ہوگا۔
’پاکستان کو تو اپنے جوہری پروگرام کو روک دینا چاہیے کیونکہ بجلی کی اتنی چھوٹی سی پیداوار کے لیے اتنا بڑا خطرہ لینے کا کیا فائدہ؟‘
اس کے برعکس بعض تجزیہ نگاروں کے خیال میں جوہری بجلی ہی پاکستان کی توانائی کی کمی کے مسئلہ کاحل ہے، جو ماحول کو آلودہ بھی نہیں کرتی۔
لیکن جاپانی مشاہدے کے مدِ نظر، جبکہ حفاظتی اقدامات کی لاگت بہت زیادہ ہے، اور خطرات بھی، کیا متبادل ذرائع پر زیادہ توجہ نہیں دینی چاہیے؟





















