بڑھتی ہوئی آبادی اور پاکستان

لوگ زیادہ، کھانا کافی

،تصویر کا ذریعہ AFP

    • مصنف, مناء رانا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

پیر گیارہ جولائی کو دنیا بھر میں آبادی کا عالمی دن منایا گیا۔ پاکستان بھی دنیا کا ایک ایسا ملک ہے جو آبادی کے لحاظ سے ایک بڑا ملک سمجھا جاتا ہےلیکن کیا بڑھتی ہوئی آبادی پاکستان کے لیے محض مصیبت ہی ہے؟

پاکستان میں توانائی اور خوراک کا بحران پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ عوام معیار زندگی کم ہونے کا رونا بھی روتے ہیں جس کی وجہ کچھ حلقوں کے نزدیک آبادی میں اضافہ ہے۔ لیکن دوسری جانب چندماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے موجودہ مسائل کی ذمہ داری آبادی میں اضافے کو قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی موجودہ آبادی تقریباً اٹھارہ کروڑ تک جا پہنچی ہے۔ ماہر معیشت اور سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ کے مطابق پاکستان کی یہ بڑھتی ہوئی آبادی مصیبت نہیں بلکہ اسے رحمت بھی قرار دیا جا سکتا ہے ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے اور اگر ان نوجوانوں کو صحت مندانہ کاموں میں استعمال کیا جائے تو یہ ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

<link type="page"><caption> ’پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی: نعمت یا مصیبت؟ خصوصی رپورٹ سنیے</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/07/110711_population_day_pak_pkg_uk.shtml" platform="highweb"/></link>

ڈاکٹر سلمان شاہ نے ان ممالک کی مثال دی جہاں کی آبادی بہت زیادہ ہے لیکن اس سے ان کی معیشت کمزور ہونے کی بجائے مضبوط ہو رہی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ چین آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے لیکن اس کی معیشت دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے جو بقول ڈاکٹر سلمان شاہ کے آئندہ چند برسوں میں نمبر ایک پر ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان میں نوجوانوں پر مشتمل اس آبادی کا صحیح طور پر استعمال کیا جائے ان کو تعلیم دی جائے ملک میں صنعتی ترقی ہو اور ان نوجوانوں کو روز گار ملے تو ملک میں معیشت بہتر ہو گی جبکہ دوسری صورت میں یہی بڑھتی ہوئی آبادی ایک خطرناک بم کا روپ دھار سکتی ہے۔

ڈاکٹر سلمان شاہ کے مطابق پاکستان میں توانائی یا خوراک کی کمی کا سبب آبادی نہیں بلکہ حکومت کی غیر مناسب پالیسیاں ہیں کیونکہ اس آبادی کا صحیح استعمال نہیں ہو رہا۔

ڈاکٹر سلمان شاہ کے مشورے سے قطع نظر پاکستان میں اس بڑھتی ہوئی آبادی کے بہتر استعمال کی بجائے کم بچے پیدا کرنے کی مہم چلائی جاتی ہے اور پاکستان میں موجود بعض مذہبی عناصر خاندانی منصوبہ بندی کی اس مہم کے سخت خلاف ہیں۔

جماعت اسلامی کے وومین اینڈ فیملی کمیشن کی سابق سربراہ عافیہ سرور کا کہنا ہے کہ اسلام تو کچھ خاص حالات میں خاندانی منصوبہ بندی کی اجازت دیتا ہے لیکن اس کو بطور مہم چلانا سود مند نہیں کیونکہ جب خاندانی منصوبہ بندی کی مہم چلانے سے آبادی کے وہ طبقے جو تعلیم یافتہ ہوتے ہیں کم بچے پیدا کرتے ہیں جبکہ معاشرے کے پہلے سے بنیادی ضرورتوں سے محروم طبقے زیادہ بچے پیدا کرتے ہیں جس سے معاشرے میں عدم توازن پیدا ہو جاتا ہے۔

عافیہ سرور کہتی ہیں کہ پاکستان میں اس وقت جو غربت اور معاشی بد حالی ہے اس کی وجہ آبادی کا بڑھنا نہیں ہے بلکہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہے۔

ماہر معیشت کا مؤقف ہے کہ آبادی کو ایک طاقت کے طور پر استعمال کرنے سے اور انہیں روز گار فراہم کرنے سے برھتی ہوئی آبادی سے فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں تو مذہبی جماعت کی رکن کا کہنا ہے کہ وسائل کی منصفانہ تقسیم سے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے یعنی یہ ماہرین اس تصور کی نفی کر رہے ہیں کہ دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی ایک مصیبت ہے۔