فیس بک گوگل کے مقابلے پر

فیس بل، فرینڈ فیڈ
،تصویر کا کیپشنفیس بک اس سے پہلے ٹوٹر سرچ انجن خریدنے کی ناکام کوشش کر چکا ہے
    • مصنف, میگی شیلز
    • عہدہ, ٹیکنالوجی رپورٹر، بی بی سی نیوز

انٹرنیٹ کے معاملات پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ فیس بک انٹرنیٹ پر مواد بانٹنے والی سائٹ فرینڈفیڈ خریدنے کے بعد سرچ انجن گوگل کے مقابلے پر آ گئی ہے۔

انڈسٹری کے بہت سارے لوگ امید کر رہے تھے کہ گوگل یا ٹوئٹر فرینڈفیڈ کو خرید سکتے ہیں۔

فرینڈ فیڈ ایک سرچ انجن ہے جہاں سے رئیل ٹائم ( اصل وقت ) میں مواد تلاش کیا جاسکتا ہے اسی خصوصیت کی وجہ سے اس ویب سائٹ کی تعریف کی جاتی ہے۔

ممتاز بلاگر روبٹ سکوب کے مطابق گوگل کو یہ بات دیکھنی ہوگی کہ فیس بک کو معلوم ہے کہ اصل منافع رئیل ٹائم سرچ میں ہی ہے۔’ گوگل عام سرچ کا بادشاہ جبکہ فرینڈ فیڈ رئیل ٹائم سرچ کا بادشاہ ہے۔‘ جس کی وجہ سے آئندہ دنوں میں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی جنگ سے معاملات زیادہ دلچسپ ہو جائیں گے۔

رواں سال مئی میں گوگل کے بانی لیری پیج نے تسلیم کیا تھا کہ گوگل دوسری سروسز جیسے ٹوٹر کی وجہ سے کافی پیچھے چلا گیا ہے جس کو استمعال کرنے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ان کی تعداد تیزی سے پینتالیس ملین تک پہنچ گئی ہے۔

امریکہ کی سلی کون ویلی کے ماہرین کے مطابق گوگل اور فرینڈ فیڈ کے درمیان ہونے والی ڈیل سے معاملات زیادہ دلچسپ ہو جائیں گے کیونکہ اس سے پہلے فیس بک ٹوٹر کو حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا۔

فیس بک کو فرینڈ فیڈ کو خریدنے کی خبر سلیکون ویلی کے لیے ایک حیران کن تھا کیونکہ امید کی جا رہی تھی کہ گوگل فرینڈ فیڈ کو خریدنے کی کوشش کرے گا۔ لیکن فرینڈ فیڈ کے اہلکار بریٹ ٹیلر نے تسلیم کیا ہے کہ خریداری کا معاہدہ آخری لمحےکیا گیا ہے جبکہ اس حوالے سےگزشتہ دو سالوں سے بات چیت جاری تھی۔

واضح ہے کہ دنیا بھر میں فیس بک کو استمال کرنے والوں کی تعداد پچیس کروڑ ہے۔