ڈنمارک: ترقی پزیر ممالک میں اختلافات

چین، بھارت اور جنوبی افریقہ کسی سخت مسودے کی مخالفت اس لیے کرتے ہیں
،تصویر کا کیپشنچین، بھارت اور جنوبی افریقہ کسی سخت مسودے کی مخالفت اس لیے کرتے ہیں

ڈنمارک میں اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی اجلاس کے موقع پر ترقی پذیر ممالک میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔

چھوٹے جزیرہ ریاستیں اور غریب افریقی ممالک نے مطالبہ کیا کہ منظور کیا گیا مسودہ جو کہ کیوٹو پروٹوکول سے بھی سخت ہے کی قانونی حیثیت ہونی چاہیے۔

اس مطالبے کی مخالفت امیر ترقی پذیر ممالک جیسے کہ چین نے کی جن کا خدشہ یہ ہے کہ اس سے ان کی ترقی رک سکتی ہے۔

توالو نے مطالبہ کیا کہ تمام مذاکرات اس وقت تک روک دی جائیں جب تک کہ اس مسئلے کا حل نہیں نکلتا۔

ترقی پذیر ممالک میں اختلافات حیران کن ہے کیونکہ عام طور پر یہ ممالک کا ایک ہی موقف ہوتا ہے۔

توالو کی طرف سے اجلاس میں شرکت کرنے والے ایئن فرائی نے کہا کہ ان کے وزیر اعظم اور کئی ممالک کے سربراہان کوپن ہیگن اس لیے آ رہے ہیں کہ وہ ایک قانونی دستاویز پر دستخط کریں۔

ترقی پذیر ممالک جیسے کہ چین، بھارت اور جنوبی افریقہ کسی سخت مسودے کی مخالفت اس لیے کرتے ہیں کہ ایسے مسودے سے ان کی معاشی ترقی سست ہو سکتی ہے۔

یاد رہے کہ ماحول کے بچاؤ کے لیے مہم چلانے والے افراد کا کہنا ہے کہ ڈنمارک حکومت کی جانب سے معاہدے کا جو مسودہ تجویز کیا گیا ہے وہ غریب ممالک کے لیے فائدہ مند نہیں۔

اس مسودےکے تحت سب ممالک ایک ہی نئے معاہدے کے پابند ہو جائیں گے جب کہ ترقی پذیر ممالک ایسا معاہدے چاہتے جو موجودہ کیوٹو پروٹوکول کا تسلسل ثابت ہو۔

اجلاس میں شامل دیگر بلاک اپنے مسودے آنے والے دنوں میں سامنے لائیں گے۔ جس کے بعد ورکنگ گروپس کے سربراہان ان مسودوں کی مدد سے معاہدے کا ایسا مسودہ تیار کریں گے جس پر سو کے قریب عالمی رہنما اور دیگر ممالک کے مندوبین کانفرنس کے اختتام پر دستخط کریں گے۔