’ماحولیاتی معاہدے کے مسودے پر اختلافات‘
ڈنمارک میں اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی اجلاس کے موقع پر افشاء ہونے والی دستاویزات سے پتہ چلا ہے کہ نئے ماحولیاتی معاہدے پر ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔

ماحول کے بچاؤ کے لیے مہم چلانے والے افراد کا کہنا ہے کہ ڈنمارک حکومت کی جانب سے معاہدے کا جو مسودہ تجویز کیا گیا ہے وہ غریب ممالک کے لیے فائدہ مند نہیں۔
اس مسودےکے تحت سب ممالک ایک ہی نئے معاہدے کے پابند ہو جائیں گے جب کہ ترقی پذیر ممالک ایسا معاہدے چاہتے جو موجودہ کیوٹو پروٹوکول کا تسلسل ثابت ہو۔
اجلاس میں شامل دیگر بلاک اپنے مسودے آنے والے دنوں میں سامنے لائیں گے۔ جس کے بعد ورکنگ گروپس کے سربراہان ان مسودوں کی مدد سے معاہدے کا ایسا مسودہ تیار کریں گے جس پر سو کے قریب عالمی رہنما اور دیگر ممالک کے مندوبین کانفرنس کے اختتام پر دستخط کریں گے۔
ڈنمارک کے مسودہ اور بھارت، چین، جنوبی افریقہ اور برازیل کی جانب سے پیش کی گئی متبادل دستاویز پر اہم ممالک کے ایک چھوٹے گروپ نے کوپن ہیگن میں گزشتہ ہفتے غور کیا تھا۔ لیکن ڈنمارک حکومت کا مجوزہ مسودہ اس وقت تک خفیہ رہا جب تک برطانوی اخبار گارڈین نے اسے کانفرنس کے دوسرے دن اپنی ویب سائٹ پر شائع نہیں کر دیا۔
اس مسودے سے پتہ چلتا ہے کہ ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک کے درمیان جن معاملات پر اختلاف پایا جاتا ہے ان میں ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے کاربن اخراج میں کمی کی مقدار، کاربن اخراج میں کمی کے آغاز کی تاریخ کا تعین اور نئے معاہدے کی شکل شامل ہے۔
بنیادی مسودے میں ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے کاربن اخراج میں کمی کیوٹو معاہدے کے تحت آتی ہے جبکہ ڈنمارک کے مسودے میں تمام ممالک نئے معاہدے کے پابند ہوں گے۔یہ اگرچہ ایک تکنیکی معاملہ لگتا ہے لیکن دراصل ترقی پذیر ممالک کیوٹو معاہدے کو قائم رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ فی الحال وہ واحد قانونی معاہدہ ہے جو ترقی یافتہ ممالک کو کاربن اخراج میں کمی کے لیے پابند کرتا ہے۔
ڈینش مسودے کے تحت دنیا میں مضرِ ماحول گیسوں کی مقدار میں دو ہزار بیس تک اضافہ ہوگا اور اس کے بعد اس میں کمی آنے لگے گی۔ مسودے میں سنہ 2050 تک عالمی پیمانے پر کاربن اخراج میں انیس سو نوے کے مقابلے میں پچاس فیصد کمی ظاہر کی گئی ہے۔ زیادہ تر صنعتی ممالک اپنے کاربن اخراج میں اسّی فیصد کمی کا عزم پہلے ہی ظاہر کر چکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم اعدادوشمار اور عالمی آبادی میں ممکنہ اضافہ کو اگر مدِ نظر رکھا جائے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں کاربن اخراج کی فی کس مقدار مغربی ممالک کے مقابلے میں کہیں کم رہے گی۔
اوکسفیم کے انتونیو ہل کا کہنا ہے کہ صنعتی ممالک کو کاربن اخراج میں کہیں زیادہ کمی کا اعلان کرنا چاہیے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہدف کا تعین بلند عزم کے ساتھ ساتھ سائنسی حقیقتوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمارے خیال میں سنہ 1990 کے مقابلے میں سنہ 2020 تک چالیس فیصد کمی ضروری ہے اور یہ بھی کافی نہیں ہے۔
تاہم انہوں نے کہا کہ اس مسودے میں کاربن اخراج میں کمی اور ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے صنعتی ممالک کی جانب سے ترقی پذیر ممالک کی مالی مدد کا اعلان نہایت خوش آئند ہے۔
کچھ دیگر مبصرین جیسے کہ ترقیاتی ادارے کیفوڈ کے سول یوئیلا کا کہنا ہے کہ ’ اس مسودے کا وجود ہی نہیں ہونا چاہیے۔ جب اقوامِ متحدہ کا باقاعدہ مسودہ بحث کے لیے موجود ہے تو کسی اور مسودے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کسی متبادل مسودے پر کام کرنا اقوامِ متحدہ کے مذاکراتی عمل کو شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہے.۔ اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی مذاکرات کار یو ڈی بوئر کے مطابق باقاعدہ بات چیت میں اس مسودے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ ایک غیر رسمی دستاویز تھی جو کانفرنس کے آغاز سے قبل مشاورت کے لیے متعدد افراد کو دی گئی تھی‘۔







