مزید مظاہرین گرفتار، ملاقاتیں جاری

گرفتار شدہ مظاہرین
،تصویر کا کیپشنڈینش پولیس نے اتوار کو مزید دو سو مظاہرین کو گرفتار کیا

ماحولیاتی تبدیلی پر کام کرنے والے گروہوں نے عالمی ماحولیاتی اجلاس کے موقع پر مظاہرین سے سختی سے نمٹنے پر ڈنمارک کی پولیس کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ڈنمارک پولیس نے سنیچر کو نو سو اڑسٹھ مظاہرین کو گرفتار کیا تھا جن میں سے بیشتر کو اتوار کو رہا کر دیا گیا۔

<link type="page"><caption> ماحول بچانے کے لیے دنیا بھر میں مظاہرے</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/science/2009/12/091212_climate_pics.shtml" platform="highweb"/></link>

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اب ان کی حراست میں ان نو سو اڑسٹھ میں سے صرف تیرہ افراد ہیں جن میں سے تین کو پولیس سے لڑنے کے الزام میں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

تاہم کلائمیٹ جسٹس ایکشن نامی تنظیم کے میل ایونز نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ گرفتار کیے جانے والے مظاہرین کو شدید سرد موسم میں گھنٹوں بغیر پانی اور طبی سہولیات کے رکھا گیا اور انہیں بیت الخلاء جانے کی سہولت بھی میسر نہیں تھی۔

ادھر سنیچر کو گرفتار شدہ مظاہرین کی رہائی کے بعد اتوار کو پولیس نے مزید درجنوں ایسے افراد کو گرفتار کیا ہے جو بندرگاہ کے قریب ایک مظاہرے میں شریک تھے۔ ہجوم سے نمٹنے کے لیے تربیت یافتہ پولیس نے آسٹرپورٹ سٹیشن کے قریب ہونے والے اس غیر قانونی مظاہرے کو روک دیا اور اس میں شریک افراد کی تلاشی لی۔ ڈینش پولیس کے ترجمان فلیمنگ منچ نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا ہے کہ اس مظاہرے کے ساتھ چلنے والی ایک گاڑی سے تالے کاٹنے والے آلات اور گیس ماسک ملے ہیں اور مظاہرے میں شریک دو سو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

دوسری طرف اجلاس میں شریک وزراء موسم میں تبدیلی کے عمل سے نمٹنے کے لیے عالمی معاہدے کے حتمی مسودے کی تیارے کے لیے اتوار کو ملاقات کر رہے ہیں۔ اس ملاقات میں چالیس سے زائد ممالک کے وزراء شریک ہو رہے ہیں۔ ان وزراء کی کوشش ہے کہ اگلے ہفتے باضابطہ مذاکرات سے پہلے متنازعہ نکات پر کچھ پیشرفت ہو جائے، جن میں ترقی پذیر ممالک کے لیے امدادی رقم اور ماحول کے لیے نقصان دہ گیسوں کے اخراج میں کمی کے اہداف کا تعین شامل ہیں۔

مجوزہ دستاویزات میں دو ہزار پچاس تک خطرناک گیسوں کے اخراج پر پچاس فیصد قابو پانے کی ہدایت کی جائے گی، خصوصاً ترقی پذیر ممالک کو پہلے سے زیادہ حصہ ڈالنا ہو گا یعنی انہیں دو ہزار بیس تک کاربن گیسوں کے اخراج میں کم سے کم پچیس فیصد کمی کرنا ہو گی۔ سویڈن کے وزیرِ ماحولیات آندریس کارلگرن نے کہا ہے کہ ’اس بات پر اتفاق میں اضافہ ہو رہا ہے کہ ابھرتی ہوئی معیشتوں کی جانب سے بھی کاربن اخراج میں کمی کے اقدامات کے وعدے سامنے آنے ضروری ہیں‘۔

کوپن ہیگن کانفرنس کی میزبان اور ڈنمارک کی وزیر کانی ہیج گارڈ نے تسلیم کیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں پر مجوزہ دستاویزات کا متن تاحال جامع شکل اختیار نہیں کر سکا۔

خیال رہے کہ سنیچر کو یورپی یونین نے معاہدے کے متن پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ترقی پذیر ممالک اپنا کاربن اخراج صرف اسی صورت میں کم کریں گے کہ جب انہیں مالی مدد دی جائے۔ یورپی یونین نے ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ترقی پذیر ممالک کو ساڑھے دس ارب ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے جو دو ہزار بارہ تک تین اقساط میں ادا کی جائے گی