ورزش سے ڈپریشن کا مقابلہ

ورزش
،تصویر کا کیپشن’ورزش سے موڈ اچھا رہتا ہے‘

ناروے میں ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ فارغ وقت میں باقاعدہ ورزش کرنے والے افراد میں ڈپریشن اور بے چینی کے آثار پیدا ہونے کے امکان کم ہوتے ہیں۔

تحقیق میں چالیس ہزار افراد نے حصہ لیا۔

تاہم تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ورزش جن لوگوں کے کام کا حصہ ان پر اس کا اثر اس طرح نہیں ہوتا جیسا کہ دوسرے لوگوں پر۔

ماہرین نے برطانوی جریدے ’برٹش جرنل آف سائیکیٹری‘ میں اس فرق کی وجہ بتائی ہے کہ وہ لوگ جن کے کام میں ورزش شامل ہے ان کا ورزش کے دوران دوسرے لوگوں سے میل جول نسبتاً کم ہوتا ہے۔

خیراتی ادارے ’مائنڈ‘ کے مطابق ورزش اور میل جول نفسیاتی صحت کا باعث بنتا ہے۔ادارے کے سربراہ پال فارمر کے مطابق ورزش سے انسان میں جوش پیدا ہوتا ہے اور اس سے اس موڈ اچھا ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ میل جول کا امکان بھی نفسیاتی صحت کی بہتری کا امکان پیدا کرتا ہے۔

مذکورہ تحقیق لندن میں کنگز کالج کے انسیٹیوٹ آف سائیکیٹری، ناروے کے انسیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ اور ناروے کی جامعہ بیرگن کے اشتراک سے کی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق وہ لوگ جو فارغ وقت میں زیادہ متحرک نہیں ہوتے ان میں ڈپریشن کی علامات پیدا ہونے کا امکان تقریباً دو گنا زیادہ ہو جاتا ہے۔