ڈسکوری آخری مشن پر روانگی کے لیے تیار

امریکی خلائی شٹل ڈسکوری اپنے آخری مشن پر روانگی کے لیے تیار ہے۔
خلائی گاڑی گرینج کے معیاری وقت کے مطابق نو بج کر پچاس منٹ پر کینیڈی سپیس سینٹر سے روانہ ہو کر ایک نئی تاریخ رقم کرے گی۔
امریکی خلائی ادارے ناسا کے تین خلائی گاڑیوں کے بیڑے میں شامل سب سے پرانی خلائی گاڑی ڈسکوری میں چھ خلاباز سوار ہونگے اور اس میں بین الاقوامی خلائی سٹیشن کے لیے سپلائی کا بڑا ڈبہ بھی شامل ہو گا۔
اس کے علاوہ خلائی سٹیشن کی آؤٹ پوسٹ کے لیے ایک جدید روبوٹ بھی بھیجا جا رہا ہے۔
اس کا نام روبوٹ ٹو یا آر ٹو ہے اور خلاء میں انسانی شکل جیسا یہ پہلا روبوٹ ہو گا۔
ناسا اور جنرل موٹرز نے مشترکہ طور پر اس روبوٹ کو پندرہ سال کی تحقیق کے بعد تیار کیا کیا ہے۔
ناسا کے خلائی بیڑے میں شامل باقی دو خلائی گاڑیوں کے بارے میں توقع ہے کہ وہ مزید دو مشنز پر جائیں گی اور اس کے بعد ان کی آخری منزل عجائب گھر ہو گئی۔
شٹل کی روانگی کے ڈائریکٹر مائیک کا کہنا ہے کہ’ تینوں خلائی گاڑیوں کی آخری بار مشن پر روانگی ہم سب کے لیے بہت جذباتی ہے لیکن ہم ان مشنز کو اسی طرح مکمل کریں گئے جیسا کہ ہم پہلے کیا کرتے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈسکوری کو گزشتہ سال ستمبر میں روانہ ہونا تھا لیکن بعد میں تیکنکی مسائل کی وجہ سے نومبر میں روانگی کا وقت طے کیا تاہم اس وقت بھی شٹل کے فیول ٹینک میں کریکس یا دراڑ کی وجہ سے اس کی روانگی کو فروری تک ملتوی کر دیا گیا۔
ڈسکوری کو تین خلائی گاڑیوں کے بیڑے کا رہنما کہا جاتا ہے۔
سنہ انیس سو چوراسی سے اب تک ڈسکوری نے اڑتیس خلائی مشن کیے ہیں۔اس دوران اس نے تئیس کروڑ کلومیٹر فاصلہ طے کیا۔
ڈسکوری کے آخری مشن کے ساتھ ہی ان امریکی خلائی گاڑیوں کا ایک دور ختم ہو جائے گا اور آئندہ امریکی خلاباز روسی خلائی راکٹ سویوز پر سفر کریں گے۔
ڈسکوری کے علاوہ اب دو خلائی شٹل باقی ہیں۔ ان میں سے اینڈیور اس سال اپریل میں ایک مشن پر جائے گی اور وسائل کی دستیابی کی صورت میں ایٹلانٹس جون میں مشن پر روانہ ہو سکتی ہے۔
اس کے بعد روسی خلائی راکٹ اس وقت تک خلائی مشن پر جانے کا ذریعہ ہوگا جب تک امریکہ میں کاروباری سطح پر خلائی گاڑیاں کام نہیں شروع کر دیتیں۔





















