سائبر حملے: امریکہ، یورپ میں اکیس گرفتار

امریکہ، برطانیہ اور ہالینڈ میں پولیس نے بڑے سائبر حملوں کے واقعات کی تحقیقات کے دوران اکیس افراد کو گرفتار کیا ہے۔
امریکہ میں ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ اس نے سولہ افراد کو کمپیوٹر ہیکنگ کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔
ان میں سے چودہ افراد پر شبہ ہے کہ انہوں نے پے پال کی ویب سائٹ پر سائبر حملہ کیا تھا۔ پے پال پر حملے کی ذمہ داری انانِمس گروپ نے قبول کی تھی۔
برطانیہ کے شہر لندن میں ایک نوجوان جبکہ ہالینڈ میں چار افراد کو سائبر حملوں کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔
امریکہ نے ان چودہ افراد پر فردِ جرم عائد کردی ہے جن پر دسمبر میں پے پال کی ویب سائٹ پر ہیکنگ کا الزام ہے۔ مزید دو افراد پر بھی کمپیوٹر ہیکنگ کی فردِ جرم عائد کردی گئی ہے۔
برطانیہ میں سکاٹ لینڈ یارڈ پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے ایک سولہ سالہ لڑکے کو جنوبی لندن سے کمپیوٹر کو غلط استعمال کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔
میٹروپولیٹن پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے ’پولیس ایف بی آئی کے ساتھ تعاون کررہی ہے اور یقیناً ہالینڈ کی پولیس کے ساتھ بھی۔‘
انانمس گروپ نے پے پال کے ساتھ گزشتہ دسمبر میں عارضی طور پر وکی لیکس، ماسٹر کارڈ اور ویزا کارڈ کی ویب سایٹس کو منجمد کردیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس گروپ نے وکی لیکس کی ویب سائٹ پر سائبر حملے کے نتیجے میں اس کا کچھ متن ہٹانے کے بعد ایمازون کی ویب سائٹ کو بھی اپنا نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی تاہم اسے اس میں کامیابی نہیں ہوئی تھی۔
انانمس گروپ کو اُس وقت شہرت ملی جب اس نے ایک ویب سائٹ پر حملہ کیا جو ایک سائنٹولوجی چرچ سے منسلک تھی۔







