فلو: میکسیکو میں 103 ہلاک

میکسیکو فلو
،تصویر کا کیپشنسیول میں آنے والے لوگوں کا معائنہ کیا جا رہا ہے

میکسیکو، کینیڈا اور امریکہ میں ’سوائن فلو‘ کی وباء پھیلنے سے دنیا کی تمام حکومتیں اس وباء کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اقدامات کر رہی ہیں۔

اس وباء سے میکسیکو میں کم از کم سو افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ میکسیکو کے وزیر برائے صحت کا کہنا ہے کہ سوائن فلو کے مشتبہ مریض کی تعداد سولہ سو سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک سو تین ہو گئی ہے۔ان ہلاکتوں میں سے بیس افراد کی ہلاکت اس وائرس سے ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

دوسری طرف امریکہ میں بیس افراد کو سوائن فلو ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے اور ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

اس کے علاوہ کینیڈا میں بھی سوائن فلو کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ سپین، اسرائیل اور نیوزی لینڈ میں بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ یہ وائرس وباء کی شکل اختیار کرسکتا ہے لیکن دنیا اس سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

اس سے قبل میکسیکو کے حکام نے ’سوائن فلو‘ کی وباء کو روکنے کے لیے سخت انتظامات کیے ہیں۔

لوگوں سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ گھروں کے اندر رہیں اور اپنی صفائی ستھرائی کا خیال رکھیں۔کئی سکول ، سرکاری عمارتوں بار اور ریستورانوں کو بند کردیا گیا ہے۔

نیوزی لینڈ میں جو واقعات سامنے آرہے ہیں توقع ہے کہ وہ بھی اسی طرح کا فلو ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے اس صورتحال کو 'لیول تھری‘ یا تیسرے درجے کا وبائی خطرہ قرار دیا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کی سربراہ مارگیٹ چِن نے خبردار کیا ہے کہ میکسیکو میں پھیلنے والا نیا فلو وائرس بین الاقوامی وباء کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بیماری بین الاقوامی سطح کی 'ہیلتھ ایمرجنسی‘ ہے اور اس پر کڑی نظر رکھنی چاہیے۔

ادھر امریکی ریاستوں نیویارک، ٹیکساس، کیلیفورنیا اور کنساس میں اب تک سوائن فلو سے متاثرہ گیارہ مریضوں کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ نیویارک میں ایک ہی سکول میں اس بیماری کے آٹھ مشتبہ مریض سامنے آئے ہیں۔ تاہم امریکہ میں ابھی تک کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ہے۔

میکسیکو کے شعبہ صحت کے سیکرٹری حوضے کورڈووا کا کہنا ہے کہ ایسے ایک ہزار تین سو چوبیس افراد ہسپتالوں میں داخل ہیں جن میں’سوائن فلو‘ کی علامات پائے جانے کا شبہ ہے۔

یہ افراد تیرہ اپریل سے ہسپتالوں میں داخل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ میکسیکو میں زیادہ تر مرنے والوں میں بچوں اور بوڑھوں کے برعکس جوان زیادہ شامل ہیں۔

میکسیکو کے صدر نے وباء پھیلنے کے بعد ملک میں ایمرجنسی کا اعلان کر دیا ہے۔ عوامی استعمال کی عمارتیں بند کردی گئی ہیں، بڑی تقریبات منسوخ کردی گئی ہیں ۔میکسیکو میں دو فٹ بال میچ جن کے سارے ٹکٹ پہلے سے فروخت ہو چکے تھے تقریباً خالی سٹیڈیم میں کھیلے گئے۔

میکسیکو سٹی کے سکول چھ مئی تک کے لیے بند کردیے گئے ہیں۔ عجائب گھروں اور لائبریریوں کو بھی بند کردیا گیا ہے اور لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ہاتھ ملانے سے گریز کریں اور کھانے کے لیے مشترکہ برتن استعمال نہ کریں۔

عالمی ادارہِ صحت کی سربراہ امریکہ کا دورہ مختصر کرکے جنیوا واپس پہنچ گئی ہیں جہاں عالمی ادارہ صحت کی ہنگامی کمیٹی کا اجلاس ہو رہا ہے۔ یہ کمیٹی بین الاقوامی ہیلتھ ایمرجنسی کا اعلان کر سکتی ہے اور عالمی وبائی خطرے کی سطح کو بلند کر سکتی ہے۔ بین الاقوامی ہیلتھ ایمرجنسی کا یہ اقدام تجارتی پابندیوں، سرحدیں بند کرنے اور سفری ہدایات جاری کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔

ایشیا اور لاطینی امریکہ کے کئی ممالک نے اپنے ہوائی اڈوں پر ملک میں آنے والے مسافروں کا طبی معائنہ شروع کر دیا ہے۔

میکسیکو فلو
،تصویر کا کیپشنمیکسیکو میں بیشتر تفریحی مقامات خالی پرے ہیں

ماہرین صحت کا کہناہے کہ اب تک کے تجزیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس بیماری کا تعلق میکسیکو میں سؤروں کے فلو وائرس سے ہے جو جنوبی امریکہ سے پھیلا ہے۔ یہ سوؤروں (اور چند پرندوں) کی سانس کی ایک بیماری ہے جو اب تک انسانوں میں عام نہیں تھی۔ اس کے پھیلنے کا ذریعہ عام نزلہ زکام کے پھیلنے کے ذریعے سے مشابہ ہے یعنی یہ کھانسی اور چھینکوں کے ذریعے ایک شخص سے دوسرے میں منتقل ہوسکتا ہے۔

اب تک اس مرض کے خلاف کوئی موثر ویکسین نہیں بنائی جاسکی ہے تاہم مریضوں کو اینٹی وائرل دوائیاں دی جارہی ہیں۔ امریکی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس فلو کی علامات اتنے زیادہ مقامات کے لوگوں میں پائی گئی ہیں کہ اس وائرس کو محدود رکھنا تقریباً ناممکن نظر آرہا ہے۔ بیماریوں کے کنٹرول کے ایک امریکی مرکز کے ٹام سکنر نے بی بی سی کو بتایا کہ ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ وبا کس تیزی سے پھیل رہی ہے اور مستقبل میں اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔