بغداد کاربم دھماکہ، دس ہلاک

عراقی حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت بغداد میں قائم ایک سبزی منڈی میں ہونے والے کار بم دھماکے میں کم سے کم دس افراد ہلاک اور تیس زخمی ہوگئے ہیں۔
یہ دھماکہ بغداد کے جنوب میں دورہ کے علاقے میں ہوا جہاں سنّی اکثریت ہے۔
وزارت داخلہ کے ایک افسر کے مطابق دھماکہ مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے ہوا۔
اپریل کے دوران بغداد میں سلسلہ وار کئی بم حملے ہوے ہیں جن میں مجموعی طور پرتیس سو پچپن افراد ہلاک ہوے۔ اس برس اب تک یہ عراقیوں کے لیے ہلاکت خیز مہینہ ہے۔
جبکہ گزشتہ برس ستمبر کے بعد سے اپریل کا مہینہ امریکی فوجیوں کے لیے بھی سب سے زیادہ ہلاکت خیز رہا۔ اس ماہ اٹھارہ امریکی مختلف حملوں میں مارے گئے۔
سال دو ہزار چھ اور سات کے مقابلے میں یہ ہلاکتیں اگرچہ کم ہیں تاہم اس برس جنوری کے بعد ان میں اضافے کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔
تشدد میں یہ اضافہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکی فوجیں جون تک شہری علاقوں سے جانے والی ہیں۔ یہ اس منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت امریکہ دو ہزار گیارہ تک اپنی تمام فوجیں عراق سے واپس بلا لے گا۔
بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کا کہنا ہے کہ عراقی اور امریکی حکام تشدد کے بڑھتے رحجان کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکام کہتے ہیں کہ دھماکے لیے استعمال ہونے والے آلات پہلے کے مقابلے میں خام ہیں اور دھماکوں کے نتیجے میں اس طرح کا فرقہ وارانہ ردعمل نہیں ہو رہا جیسا کہ ماضی میں دیکھنے میں آیا کرتا تھا۔





















