شمالی کوریا پر پابندیاں لاحاصل؟

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ایک ایسی قرداد کا مسودہ تیار کر رہی ہے جس کے ذریعے نہ صرف شمالی کوریا کے دوسرے ایٹمی دھماکے کی مذمت کی جاسکے بلکہ ایسے اقدام بھی تجویز کیے جاسکیں جن سے پیانگ یونگ حکام پر دباؤ میں اضافہ کیا جا سکے۔
لیکن ہمارے سفارتی نامہ نگار جوناتھن مارکس کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کی ایٹمی قوت کے برخلاف اس کی کمزوری ایک ایسی طاقت ہے جس کی بنا پر اس پر اضافی پابندیاں موثر نہیں ہو سکیں گی۔
بیرونی مبصرین شمالی کوریا پر ہر طرح کا لیبل لگا چکے ہیں۔ اسے ایک ایسا ملک سمجھا جاتا ہے جس کی ہر چیز راز بنی رہتی ہے۔ وہ اندر ہی اندر ایٹمی کام کرتا رہا ہے اور اسی بنا پر اس کے بارے میں اگر کچھ کہا جا سکتا ہے تو یہ کہ اس کے بارے میں قبل از وقت کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
اپنی تمام تر فوجی طاقت کے باوجود شمالی کوریا ایک کمزور اکیلا اور نحیف و نزار ملک ہے۔ اس کے شہری ویسع پیمانے پر پھیلی خشک سالی کا شکار ہیں۔ اس کی معیشت خستہ حال ہے اور خطرہ یہ نہیں ہے کہ شمالی کوریا جنگ شروع کر سکتا ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ اس درجے بدحال ہو جائے گا کہ اس کے لاکھوں شہری کہیں اور پناہ ڈھونڈنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
یہی منظر نامہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ چین تمام باتوں کے باوجود اپنے اس چھوٹے اور ٹیڑھے ہمسائے پر دباؤ بڑھانے سے گریزاں کیوں ہے۔
سخت الفاظ اور مزید اقتصادی پابندیوں پر مبنی سلامتی کونسل کی قرار داد ہو سکتا ہے کچھ ایسا حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے جو محض اشارے سے زیادہ ہو، وہ بھی اس صورت میں کہ چین کی حمایت بھی شامل ہو لیکن اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ چین ایسی پابندیاں لگانے کے لیے سنجیدہ ہو گا۔
امریکہ اور اس کے اتحادی دوطرفہ کارروائی کو مزید آگے بڑھا سکتے ہیں کیونکہ شمالی کوریا کے ایٹمی اور میزائل پروگرام کے بارے سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ وہ یہ ٹیکنالوجی دوسرے ملکوں کو برآمد کرنے پر آمادہ ہے۔
شمالی کوریا کے کچھ اور بحری جہازوں کو سمندر میں روک کر رکھا جا سکتا ہے لیکن کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اس کے جواب میں شمالی کوریا کیا کرے گا؟ صدر اوباما مزید اقدام کی اجازت لے سکتے ہیں، سخت ترین انتباہ دے سکتے ہیں پیانگ یونگ سے سفارتی تعلقات پر نظرِ ثانی کر سکتے ہیں اس میں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ شمالی کوریا سے تعلقات کو معمول پر لانے اور کوریائی خطے میں حالتِ جنگ ختم کرنے کے بارے میں سوچا جائے بشرطیکہ شمالی کوریا اپنا ایٹمی پروگرام بند کرنے پر تیار ہو جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ شمالی کوریا اپنے ایٹمی پروگرام سے دست بردار ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا اور بحران یہ ہے کہ اس بحران کے فریقوں میں سے کسی ایک کے لیے بھی اس بحران سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔




















