’ملبہ ائر فرانس کے طیارے کا نہيں‘

برازیل ميں فضائیہ کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ بحرِ اوقیانوس سے برآمد ہوا ملبہ حادثے کا شکار ہوئے ایرفرانس کے طیارے کا نہیں ہے۔
بریگیڈئر ریمان باءگریس نے گزشتہ دنوں موصول ہونے والی ان خبروں کی تردید کی ہے کہ ایر فرانس طیارے کا ملبہ برآمد ہو گیا ہے۔ انہوں نے مزيد کہا کہ اب تک طیارے کا کوئی حصہ برآمد نہيں ہوا ہے۔
سمندر میں لکڑی کا ایک بڑا ٹکڑا ملا تھا لیکن ایر بس اے 330 طیارے کا ٹکڑا نہیں تھا۔ طیارے کے مسافروں کے رشتےداروں سے کہا گیا ہے کہ کسی کے زندہ بچنے کی کوئی امید نہيں ہے۔
ایر فرانس کے ایک اعلی اہلکار پیئر ہینری اور چیئرمین زیاء سائرل نے مسافروں کے رشتےداروں کو شارلس ڈیگال ہوائی اڈے کے نذدیک ایک ہوٹل ميں یہ جانکاری فراہم کی ہے۔
پیئر ہنری کے مطابق 228 لوگوں کو لے جانے والا یہ طیارہ یا تو ہوا میں ہی ٹوٹ کر بکھر گیا یا پھر سمندر ميں گرنے کے بعد بکھر گیا۔
ایک اور اہلکار کے مطابق یہ واضح ہے کہ طیارے کی لینڈنگ نہيں ہوئی یعنی وہ کہیں اتر نہیں پایا اور طیارے کے اسکیپ سلائڈ نہيں کھل سکے۔
ادھر برازيل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں ایک تعزیتی تقریب میں ہزاروں لوگ جمع ہوئے جس میں فرانس اور برازیل کے وزير خارجہ بھی شامل ہوئے۔ اس کے علاوہ پیرس میں بھی بدھ کو ایک تعزیاتی تقریب ہوئی تھی۔
برازیل میں بحریہ کے جہاز گمشدہ طیارے کے ملبے کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں۔ آئیند چند دنوں میں برازیل کی تین کشتیاں اور ایک فرانسیسی جہاز بھی مدد کے لیے پہنچ رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

برازیل کے بریگیڈئر کاردوسو نے بتایا کہ سمندر ميں ملا ایندھن شاید طیارے کا ہے کیونکہ پانی کے جہازوں ميں ویسا ایندھن استعمال نہيں ہوتا۔
انہوں نے کہا ہے کہ تلاشی جاری رہے گی اور فی الحال لاشوں کو تلاش کرنے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
ادھر فرانسیسی فوج کے ترجمان کرسٹوف پرازک نے کہا کہ فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر تلاش کرنے سے قبل طیارے کا ملبہ تلاش کرنا ہوگا کیونکہ وقت گزرتا جا رہا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ ملبے کے کھونے یا ڈوبنے کا اندیشہ پیدا ہو جائے گا۔
فرانسیسی اہلکار یہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ بلیک باکش ریکارڈز شاید کبھی نہ مل سکے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ حادثے کی وجوہات کا بھی شاید پتا نہ چل سکے۔
تفتیشی اہلکار بعض اوٹومیٹڈ پیغامات کے ذریعے جانکاری حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہین جو حادثے سے پہلے بھیجے گئے تھے۔





















