ایئر فرانس: سپیڈ سنسر بدلنے کا فیصلہ

سمندر میں تباہ شدہ جہاز کے ملبے کی تلاش انتہائی مشکل اور دشوار کام تھا
،تصویر کا کیپشنسمندر میں تباہ شدہ جہاز کے ملبے کی تلاش انتہائی مشکل اور دشوار کام تھا

ائیر فرانس نے گزشتہ پیر کوبحر اوقیانوس کے اوپر اپنے ہوائی جہاز کےلاپتہ ہونے کے بعد اپنے جہازوں کی رفتار کو ماپنے والے آلات کو بدلنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ائیر فرانس کا کہنا ہے کہ اس نے گزشتہ سال نگرانی کرنے والے آلات پر برف جمنے کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کے بعد اپریل میں ان کو بدلنا شروع کر دیا تھا۔

خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والے جہاز کے سنسر پر اس کی رفتار کے بارے میں متضاد معلومات موصول ہو رہی تھیں۔ فلائٹ اے ایف چار چار سات کے دو سو اٹھائیس مسافر اور عملے کے ارکان اس وقت ہلاک ہوگئے تھے جب یہ جہاز رو ڈی ژینیرو سے پیرس آتے ہوئے بحیرہ اوقیانوس کے اوپر پیر کے روز لاپتہ ہوگیا تھا۔

تاہم ایئر فرانس نے وقت سے پہلے اس واقعے کے حوالے سے کسی بھی قسم کی رائے دینے والوں کوخبردار کیا ہے۔

برازیل کی فضائیہ نے کہا ہے کہ بحرہ اوقیانوس کے اوپر گزشتہ پیر کو لاپتہ ہونے والے ائیر فرانس کے ہوائی جہاز کا کچھ ملبہ اور دو مسافروں کا لاشیں مل گئی ہیں۔

ان لاشوں کو برازیل کے ساحل کے قریب جزائر فرناندو دی نورونہا کے شمال مشرق میں قریب آٹھ سو کلومیٹر دور سمندر سے اٹھایا گیا ہے۔

ہفتے کے روز برازیل کی فضائیہ کے ترجمان ژورگے امارل نے شمالی شہر راسیفے میں صحافیوں سے کہا کہ ’ہم تصدیق کرتے ہیں کہ سمندر سے ملنے والی لاشیں اور ملبہ گمشدہ ائیر فرانس کے جہاز کا ہے۔‘

ترجمان نے بعد میں مزید بتایا کہ دو مرد مسافروں کی لاشوں کے علاوہ ایسی اشیاء بھی ملی ہیں جن کا تعلق جہاز کے مسافروں سے ہو سکتا ہے۔

برازیل کے ایک سرکاری اہلکار دو لاشیں ملنے کی خبر سنا رہے ہیں
،تصویر کا کیپشنبرازیل کے ایک سرکاری اہلکار دو لاشیں ملنے کی خبر سنا رہے ہیں

ان اشیاء میں جہاز کے ٹکٹ کے ساتھ ایک سوٹ کیس اور ایک بیگ بھی شامل ہے جس کے اندر ایک کمپیوٹر ہے۔

کرنل امرال نے بتایا ہے کہ ائیر فرانس نے تصدیق کی ہے کہ ٹکٹ کے نمبر سے تصدیق ہوئی ہے کہ یہ ٹکٹ لاپتہ جہاز کے ایک مسافر کا ہے۔ جہاز کی نیلے رنگ کی ایک نشست بھی ملی ہے جس کے سیریئل نمبر کی فضائی کمپنی یہ جاننے کے لیے پڑتال کررہی ہے کہ آیا یہ لاپتہ جہاز کی ہی ہے یا نہیں۔

لاشیں سمندر میں جہاں سے ملی ہیں وہ مقام اس جگہ سے دور نہیں جہاں سے آخری مرتبہ جہاز سے سگنل موصول ہوئے تھے۔

ساؤ پالو میں موجود صحافیوں کا خیال ہے کہ اب تک تلاش کا محور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر رہے ہیں جن سے سونار بیکن منسلک ہوتے ہیں۔ لیکن فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ اس امر کی کوئی ضانت نہیں کہ یہ سونار بیکن جو ہر تھوڑی دیر بعد ایک خودکار ریڈیو سگنل نشر کرتے ہیں ان ڈیٹا ریکاڈروں سے بدستور منسلک ہوں کیونکہ یہ جہاز کے پانی سے ٹکرانے پر علیحدہ بھی ہوسکتے ہیں۔

حکام نہیں جانتے کہ کن وجوہات کی بناء پر یہ پرواز مشکلات میں گرفتار ہوئی لیکن یہ درست ہے کہ اس حادثے کے وقت جہاز ایک طوفان سے گزر رہا تھا۔ حکام نے یہ بھی بتایا ہے کہ تباہ ہونے سے ذرا پہلے جہاز سے چوبیس تکنیکی خرابیوں کے خودکار الیکٹرونک پیغامات موصول ہوئے تھے۔

فلائٹ ڈیٹا ریکاڈروں کی تلاش کے لیے ایک ایسی فرانسیسی آب دوز کو علاقے میں بھیجا گیا جو سونار سگنل پہچان سکتی ہے۔ امریکہ بھی تلاش میں مدد کے لیے خصوصی آلات بھیج رہا ہے۔