ایران: احتجاج میں سات ہلاک

تہران میں پیر کےاحتجاجی جلسے پر پابندی کے باوجود اس میں ہزاروں افردا شریک ہوئے تھے
،تصویر کا کیپشنتہران میں پیر کےاحتجاجی جلسے پر پابندی کے باوجود اس میں ہزاروں افردا شریک ہوئے تھے

ایران کے سرکاری ریڈیو کے مطابق دارالحکومت تہران میں پیر کو صدر محمود احمد نژاد کی انتخابی جیت کے خلاف مظاہروں میں سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

سرکاری ریڈیو کے مطابق یہ ہلاکتیں تہران میں آزادی سکوائر میں احتجاجی ریلی کے قریب ایک فوجی چیک پوسٹ پر حملے کے بعد ہوئی ہیں۔

سرکاری ریڈیو کے مطابق ’سات غُنڈوں نے ایک فوجی چوکی پر حملہ کرنا چاہا اور وہ آزادی سکوائر کے قریب توڑ پھوڑ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔‘ ریّڈیو کی خبروں کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ’لوگ اس غیر قانونی جلسے کے بعد پر امن طریقے سے نکل رہے تھے۔‘

پیر کو احتجاجی ریلی پر پابندی کے باوجود اس میں ہزاروں افراد شریک ہوئے تھے۔ ایران میں تیس سال پہلے کے اسلامی انقلاب کے بعد سے یہ ملک میں ہونے والے سب سے بڑے جلسوں میں شامل ہے۔

ادھر کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ صدر احمدی نژاد کے لیے حکام کی حمایت میں کچھ کمی معلوم ہوتی ہے۔ ملک کے شوریٰ نگہبان نے اب انتخابی نتائج کو عبوری قرار دے دیا ہے۔ شوریٰ نگہبان منگل کو صدر احمدی نژاد کے تینوں مخالف امیدواروں سے بات کرے گی۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنئی صدر احمد نژاد کے مخالفین کی طرف سے انتخابات میں دھاندلیوں کے الزامات کی انکوائری کا حکم دے چکے ہیں۔