تہران میں لاکھوں کا جلوس

ایران
،تصویر کا کیپشنایرانی اخبار اطلاعات نے پیر کو نکالی جانے والے حکومتی اور حزب اختلاف کی ریلیوں کی تصاویر کو برابر برابر شائع کیا۔

ایران کے صدارتی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف دارالحکومت تہران میں خاموش ریلی نکالی گئی ہے۔ جس میں ہزارہا لوگوں نے شرکت کی۔

ریلی سے قبل ایرانی صدر احمدی نژاد کے ناکام حریف میر حسین موسوی نے کہا تھا کہ انتخابی نتائج کے خلاف کیے جانے والے احتجاج کو پُر امن رکھا جائے۔

یونیورسٹی کے ہاسٹل پر چھاپوں اور اصلاحات کی حامی دو اہم شخصیات کی گرفتاری کے بعد بدھ کو بڑے پیمانے پر احتجاجی ریلیاں متوقع تھیں۔

اس دوران ایران کے اعلیٰ روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای نے کشیدگی اور تشدد ختم کرنے کے لیے کہا ہے۔

گزشتہ ہفتے ہونے والے انتخابات میں صدر احمدی نژاد دوسری بار منتخب قرار دیا جا چکا ہے اور کہا گیا ہے کہ انہوں نے دو تہائی ووٹ حاصل کیے ہیں۔

انتخابی نتائج کے بعد سے شروع ہونے والے احتجاج اور سکیورٹی اداروں اور احتجاج کرنے والوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں اب تک آٹھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

پابندیوں کے باوجود بدھ کی شام کو حزبِ اختلاف نے وسطی تہران احتجاج کا اعلان کیا تھا۔

اس بارے میں جاری کی جانے والی آن لائن رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ احتجاجی ریلی کے شرکا خاموش مارچ کریں گے تا کہ حکام کو ریلی کے پُر امن نہ ہونے یا اشتعال انگیز ہونے کا عذر نہ مل سکے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس اے پی نے کہا ہے کہ میر حسین موسوی نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا تھا کہ 'ہم پُرامن ریلی کے ذریعے انتخِابات کے غیر صحت مند رحجان کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور انتخِابات کو کالعدم کرانے کا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں‘۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ ایسے نئے انتخابات چاہتے ہیں جن میں گزشتہ ہفتے کے انتخابات کی طرح شرمناک دھوکہ دہی کو دہرایا نہ جائے۔