تہران میں حکومت مخالف اور حامی ریلیاں

ایران کے ہارے ہوئے صدارتی امیدوار میر حسین موسوی کے حامیوں نے تہران میں منگل کو ایک اور ریلی نکالی ہے۔
چشم دید گواہوں کا کہنا ہے کہ یہ ریلی اس کے باوجود نکالی گئی ہے کہ حسین موسوی نے صدر احمدی نژاد کے حامیوں اور اپنے حامیوں کے درمیان تصادم سے بچنے کے لیے اپنے حامیوں سے کہا ہے کہ وہ ریلیاں نہ نکالیں۔
اس سے قبل صدر احمدی نژاد کے حامیوں نے وسطی تہران میں ایک ریلی نکالی۔
ریلیوں کی کوریج کے لیے غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائدوں پر لگائی جانے والی تبدیلی کی وجہ سے بی بی سی کے نامہ نگار اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتے کہ ریلیوں میں کس قدر لوگوں نے شرکت۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نئی پابندیوں کا نفاذ، پابندیوں کی خلاف ورزیوں کے درجے اور سطح پر حکام کی حیرت اور تشویش کو ظاہر کرتا ہے۔
سرکاری ٹیلی ویژن کے رپورٹر سمیت چشم دید لوگوں کے حوالے سے جون لین کا کہنا ہے کہ شمالی تہران میں لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے ریلی میں شرکت کی۔
تاہم ابھی یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ریلی میں حزبِ اختلاف کسی رہنما نے بھی شرکت کی یا نہیں۔ اس ریلی کا کوئی باقاعدہ اہتمام نہیں کیا گیا تھا اور آخری اطلاعات کے مطابق ریلی براڈکاسٹنگ کے سرکاری ادارے کے پاس سے گذر رہی تھی۔
دوسری طرف وسطی لندن میں ایک اور ریلی نکالی گئی جو حکومت کے حامیوں کی تھی اور نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ٹیلی ویژن پر دکھائی جانے والی تصویروں سے یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ ریلی کتنی بڑی تھی یا اس میں کتنے لوگو ں نے شرکت کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایران میں شوریٰ نگہبان صدارتی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی دوبارہ کرانے کے لیے تیار ہے۔
سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق شوریٰ نگہبان نے یہ فیصلہ منگل کو کیا ہے۔

انتخابی نتائج اور صدر احمدی نژاد کی فتح کے اعلان کے بعد ایران میں تین دن سے احتجاج ہو رہا ہے۔ صدر احمدی نژاد کے مخالف امیدواروں نے ان پر انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگائے ہیں۔
تہران میں بی بی سی کے نامہ نگار جون لین کے مطابق ہو سکتا ہے کہ مخالف امیدواروں کو یہ فیصلہ منظور نہ ہو۔




















