آیت اللہ: انتخابی نتائج صحیح ہیں

ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای نے تہران میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صدارتی انتخاب کے نتائح کے بارے میں بات کی ہے اور صدر احمدی نژاد کے انتخاب کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے مغربی ممالک او میڈیا پر سخت تنقید کی ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے عوام سے کہا کہ وہ اب احتجاجی جلسوں اور جھڑپوں سے گریز کریں اور قانوں کے دائرے میں رہیں۔
آیت اللہ خامنہ ای نے سابق صدر ہاشمی رفسنجانی کی بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کو رد کرتے ہیں اور ان کے اسلامی انقلاب کو خدمات کو سراہتے ہیں۔ آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ ہاشمی رفسنجانی اور صدر احمدی نژاد میں خارجہ پالسی اور سماجی امور پر اختلاف رائے ہے تاہم ان کی اپنی رائے صدر احمدی نژاد کی رائے کے قریب ترین ہے۔
انہوں نے کہا کہ انتخاب سے پہلے انہوں نے اپنی رائے کا اظہار نہیں کیا تھا اور عوام نے خود فیصلہ کیا کہ وہ کس کو صدر بنانا چاہتے ہیں اور یوں پچھلے جمعہ کو ہونے والے انتخاب میں لاکھوں افراد نے اپنے اپنے امیدوار کو ووٹ ڈالا۔

آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ انتحاب سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کی عوام خوشی اور اعتماد سے زندگی گزار رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ اتنے بڑی پیمانے پر انتخاب میں شریک ہوئے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ صدارتی انتخاب کے چاروں امیدوار اسلامی انقلاب کی حمایت کرتے ہیں اور یہ انتخاب اس ریاست کے اندر کا مقابلہ تھا یہ ریاست حامی اور ریاست مخالف امیدواروں میں مقابلہ نہیں تھا۔
انہوں نے ایرانی عوام کی انتخاب میں بھرپور شرکت کو سراہا اور کہا کہ اسلامی ریاست انتخابات میں دھاندلی نہیں کرتی اور انتخاب میں شریک تمام افراد کو یہ بات معلوم ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی نتائج صحیح تھے اور انہوں نے اس کے بارے میں تحفظات رکھنے والے امیدواروں سے اپیل کی کہ وہ اس سلسلے میں عدالتی نظام سے رجوع کریں۔
اس خطاب میں آیت اللہ خامنہ ای نے غیر ملکی طاقتوں اور میڈیا پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے ان ممالک کو ’مغرو‘ اور گمراہ کن قرار دیا اور برطانیہ کو خاص طور پر تنقید کا نشانہ بنایا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ مغربی ممالک کے جو سفارتکار ماضی میں بہت اچھی طرح پیش آتے تھے وہ گزشتہ چند دنوں میں بے نقاب ہو چکے ہیں۔ آیت اللہ کے مطابق ان ممالک کے اصلی رنگ اب سامنے آگئے ہیں اور وہ در اصل ایران کے دشمن ہیں۔ آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ ان ممالک میں سب سے منفی کردار برطانوی حکومت کا ہے۔

انہوں نے مغربی ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کو ایران کے بارے میں شاید یہ غلط فہمی تھی کہ یہ جارجیا ہے جہاں وہ ایک ’ویلوٹ روولوشن‘ لے کر آسکیں گے۔
بارہ جون کو ملک میں ہونے والے صدراتی انتخابات میں محمود احمدی نژاد کی کامیابی کے بعد ایران میں ایک سیاسی بحران پیدا ہو گیا اور روزانہ لاکھوں کی تعداد میں افراد مظاہرے کر رہے تھے۔
بارہ جون کے صدارتی انتخاب میں احمدی نژاد دو تہائی اکثریت کے ساتھ دوبارہ ایران کے صدر منتخب ہوگئے تھے لیکن اپوزیشن نے اس انتخاب پر وسیع پیمانے پر دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں۔
شکست خوردہ امیدوار میر حسین موسوی اور اصلاح پسند مہدی کروبی کے علاوہ قدامت پسند محسن رضا سے کہا گیا ہے کہ وہ شورائے نگہبان کی ہفتہ کے روز ایک غیر معمولی میٹنگ میں شرکت کریں اور شورٰی کے اراکین کے ساتھ اپنے اپنے مسائل پر بات چیت کریں۔




















