اوباما کا ایران میں مداخلت سے انکار

براک اوباما
،تصویر کا کیپشنپر امن مظاہرین کے خلاف تشدد پر امریکی عوام کو تشویش ہے

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ وہ ایسا تاثر نہیں دینا چاہتے کہ امریکہ ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے۔ صدر اوباما نے کہا کہ ان کے خیال میں ایرانیوں کی آواز سنی جانی چاہیے لیکن وہ مداخلت کرتے ہوئے نظر نہیں آنا چاہتے۔

امریکہ میں حزب اختلاف کے کچھ ارکان نے ایران میں ہونے والے صدارتی انتخاب کو فراڈ کہا ہے لیکن صدر اوباما کا کہنا ہے کہ دوبارہ منتخب ہونے والے ایرانی صدر احمدی نژاد اور ان کے مخالف امیدوار حسین موسوی کی پالیسیوں کے درمیان زیادہ فرق نہیں ہوگا۔

تہران میں بی بی سی کے نامہ نگاروں نے بتایا ہے کہ ماحول کشیدہ ہے اور لوگ غصے میں ہیں۔ دریں اثناء وہاں غیر ملکی ذرائع ابلاغ پر بھی کڑی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔

صدر اوباما نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو کے دوران کہا کہ امریکہ اور ایران کے تعلقات کی تاریخ کو سامنے رکھا جائے تو ایران کے معاملات میں مداخلت فائدہ مند ثابت نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا احمدی نژاد اور حسین موسوی کی پالیسیوں میں شاید اتنا زیادہ فرق نہ ہو جتنا ذرائع ابلاغ میں بتایا جا رہا ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ ’جب میں پر امن مظاہرین پر تشدد ہوتا ہوا دیکھتا ہوں، دیکھتا ہوں کہ پر امن اختلاف رائے کے اظہار کو دبایا جا رہا ہے تو مجھے تشویش ہوتی ہے، امریکی عوام کو تشویش ہوتی ہے‘۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جسٹن ویب نے کہا کہ صدر اوباما محتاط ہیں کہ وہ حسین موسوی کے حق میں جاری مظاہروں کے آگے نہ بڑھ جائیں خاص طور پر اس ماحول میں جب امریکی خفیہ اداروں کی کچھ رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید لوگوں نے واقعی احمدی نژاد کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

دریں اثناء ایرانی حکومت نے بی بی سی کی ویب سائٹ اور فارسی ٹیلی ویژن کی نشریات روک دی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بی بی سی کو ایران سے ہزاروں ای میل اور وڈیو بھیجی جا رہی ہیں جن میں یونیورسٹی کے طلباء کواحتجاج کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

اصفہان سے ایک شخص نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ نوجوان خود ایک دوسرے سے زبانی پیغام رسانی کے ذریعے مظاہرے منعقد کر رہے ہیں۔ ایک ای میل میں متنبہ بھی کیا گیا کہ موسوی کے حامی ایرانی عوام کی عمومی رائے کی عکاسی نہیں کرتے۔

ایران سے انتخاب سے پہلے بڑی تعداد میں لوگ بی بی سی کو فون کر کے احمدی نژاد کی حمایت کا اظہار کرتے رہے ہیں لیکن اس کے بعد سے زیادہ تر پیغامات غصے کا اظہار کر رہے ہیں کہ انتخاب صحیح طرح نہیں کروائے گئے۔