ایران: سیاسی بحران پر قابو کی کوشش

ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای آج تہران میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کریں گے جس میں ملک میں جاری سیاسی بحران کو قابو کرنے کی کوشش کریں گے۔
تہران میں ہونے والی اس نماز جمعہ میں لاکھوں افراد شرکت کرتے ہیں۔ آیت اللہ کافی عرصے بعد نماز جمعہ کی امامت کرنے آنے رہے ہیں۔
بارہ جون کو ملک میں ہونے والے صدراتی انتخابات میں محمود احمدی نژاد کی کامیابی کے بعد ایران میں ایک سیاسی بحران پیدا ہو چکا ہے اور روزانہ لاکھوں کی تعداد میں افراد مظاہرے کر رہے ہیں۔
احمدی نژاد کے حریف میر حسین موسوی اور ان کے حامی اصلاحات پسند سیاسی رہنما ملک میں نئے سرے سے انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔میر حسین موسوی نے انتخاب میں بڑے پیمانے پر فراڈ کا الزام لگا کر ملک میں نئے انتخابات کا مطالبہ کیا ہے۔
ایران میں صدارتی انتخابات میں شکست کھانے والے امیدوار حسین موسوی نے اصلاح پسندی کے سرگرم کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور ان کے مطالبے پر ان کے طرفداروں نے یومِ سوگ مناتے ہوئے مظاہرہ کیا ہے۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں موم بتیاں تھیں اور انہوں نے سیاہ لباس زیبِ تن کیا ہوا تھا۔
جمعرات کو ہونے والا مظاہرہ گزشتہ جمعہ کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے بعد ہونے والے احتجاج میں تازہ ترین تھا اور امکان ہے کہ اس سلسلے کے مزید مظاہرے بھی ہوں گے۔میر موسوی نے بھی اجتماع سے خطاب کیا۔
میر موسوی نے اپنے حمایتیوں سے کہا کہ مظاہروں کے دوران وہ پُر امن رہیں اور ان آٹھ افراد کی یاد میں مساجد میں جمع ہوں جو پیر کو تہران میں ہلاک ہو گئے تھے۔
تہران میں بی بی سی کے سابق نامہ نگار جم میور کا کہنا ہے کہ اب ایران میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اقتدار کی جنگ ہے جس میں ایران کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان بہت سے افراد کو رہا کیا جائے جو اصلاح پسندی کی حمایت کرتے ہیں لیکن گرفتار ہیں۔ادھر سرکاری ریڈیو کے مطابق ایران کے سب سے بڑے قانون ساز ادارے نے گزشتہ جمعہ کو شکست کھانے والے تینوں امیدواروں کو سنیچر کو ملاقات کے لیے طلب کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سرکاری ترجمان کے مطابق مسٹر موسوی اور اصلاح پسند مہدی کروبی کے علاوہ قدامت پسند محسن رضا سے کہا گیا ہے کہ وہ شورائے نگہبان کی ایک غیر معمولی میٹنگ میں شرکت کریں اور شورٰی کے اراکین کے ساتھ اپنے اپنے مسائل پر بات چیت کریں۔
ترجمان نے بتایا کہ شورٰی نے نتائج سے متعلق چھ سو چھیالیس شکایات کا 'ْبغور معائنہ‘ شروع کر دیا ہے۔اس ہفتے کے شروع میں شورٰی کی طرف سے کہا گیا تھا کہ وہ نتائج کی نئے سرے سے جزوی گنتی کرے گی لیکن صدارتی امیدوار کی طرف سے ازسرِ نو انتخابات کے مطالبہ مسترد کر دیا گیا تھا۔
بارہ جون کو احمدی نژاد دو تہائی اکثریت کے ساتھ دوبارہ ایران کے صدر منتخب ہوگئے تھے لیکن اپوزیشن نے اس انتخاب پر وسیع پیمانے پر فراڈ کے الزامات عائد کر دیئے ہیں۔




















