’سی آئی اے غلط بیانی کرتی رہی‘

سی آئی اے ڈائریکٹر لیون پانیٹا
،تصویر کا کیپشنسی آئی اے کانگریس کے ارکان کو گمراہ کرنے کے الزام کی تردید کرتی ہے

امریکی کانگریس کی انٹیلیجنس کمیٹی کے چھ ارکان نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ڈائریکٹر لیون پانیٹا نے اعتراف کیا تھا کہ ان کا ادارہ مستقل طور پر کانگریس کے ارکان سے غلط بیانی کرتا رہا ہے۔

کانگریس کے اراکین کی طرف سے یہ دعوی کہ سی آئی اے انہیں گمراہ کرتا رہا ہے ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے کمیٹی کے چیئرمین سلویسٹر ریز کے خط میں بھی دہرایا گیا ہے۔

یہ الزام ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی کے اس دعوی کے بعد سامنے آیا کہ سی آئی اے نے انہیں تفتیش کے طریقوں کے بارے میں گمراہ کیا تھا۔

سی آئی اے کے ایک ترجمان نے اس بات پر اصرار کیا ہے کہ ان کے ادارے کی نہ تو یہ پالیسی ہے اور نہ ہی طریقہ کار کہ وہ کانگریس سے غلط بیانی کرے۔

کمیٹی کے چھ ارکان نے جو سب کہ سب ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں لیون پانیٹا کے نام ایک خط میں الزام لگایا کہ انہوں نے حال ہی میں اس بات کی توثیق کی تھی کہ سی آئی اے کے اعلی اہلکاروں نے بہت سے اہم اقدامات کو کانگریس کے ارکان سے چھپائے رکھا اور سن دو ہزار ایک سے آج تک گمراہ کرتے رہے ہیں۔‘

اس خط میں ان اراکین نے کہا کہ یہ اسی طرح کی دھوکہ بازی ہے جو کہ دوسرے ادوار میں دی جاتی رہی ہے اور جس کے بارے میں انہیں علم ہے۔

ایک اور خط میں سلویسٹر ریز نے الزام لگایا کہ ’کمیٹی کو جو نوٹیفیکیشن پانیٹا سے چوبیس جون دو ہزار نو کو موصول ہوا ہے اس سے انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ کمیٹی کو گمراہ کیا گیا، اس کو پورے اور مکمل نوٹیفیکیشن فراہم نہیں کیئے گئے اور کم از کم ایک معاملے میں جھوٹ بولا گیا۔‘

بی بی سی کے واشنگٹن میں نامہ نگار جون ڈونیسون کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں اس بات پر بہت بحث ہوئی ہے کہ کانگریس کے راہنماؤں کو بش انتظامیہ کے دور میں سی آئی اے کے متنازعہ تفتیش کے طریقوں سے جن میں واٹر بورڈنگ بھی شامل ہے کس قدر آگاہ رکھا گیا ۔

حزب اختلاف جماعت ریپبلکن پارٹی کے ارکان نے ڈیموکریٹ پارٹی کی نینسی پلوسی پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے اس بارے میں دروغ گوئی سے کام لیا کہ انہیں سی آئی اے کے تفتیشی طریقوں کےبارے میں کس قدر علم ہے۔

ریپبلکن کا کہنا ہے کہ سلویسٹر ریز کی طرف سے یہ تازہ الزامات نینسی پلوسی کی طرف سے توجہ ہٹانے کا حربہ ہے۔

نینسی پلوسی کا اصرار ہے کہ سی آئی اے نے انہیں واٹر بورڈنگ کے طریقہ کار کے بارے میں نہیں بتایا اور سی آئی اے کی طرف سے یہ کہنا کہ انہیں بتایا دیا گیا تھا بالکل غلط ہے۔

یہ تنازع ایسے وقت کھڑا ہوا ہے جب کانگریس میں ڈیموکریٹ اس کوشش میں ہیں کہ سرکاری خفیہ دستاویزات کو عام کرنے کے اختیار کے بارے میں قواعد میں تبدیلی کی جائے۔

وہ چاہتے ہیں کہ سینیٹ اور ایوان نمائندگان میں خفیہ اداروں کے بارے میں کمیٹیوں کے سربراہوں کے پاس یہ اختیار ہونا چاہیے کہ وہ کمیٹی کے دوسرے اراکین کو خفیہ معلومات سے آگاہ کر سکیں۔

اس تجویز کی ایوان صدر کی طرف سے شدید مخالفت ہو رہی ہے اور ایوانِ صدر کا خیال ہے کہ صرف صدر ہی کو خفیہ معلومات کو عام کرنے کا اختیار حاصل ہونا چاہیے۔