امریکی فوج میں عارضی اضافے کا اعلان

رابرٹ گیٹس کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایف 22 جسے انیس سو اسی کی دہائی میں ڈیزائن کیا گیا تھا دفاعی حکمتِ عملی کے لحاظ سے اب مفید نہیں رہا۔
،تصویر کا کیپشنرابرٹ گیٹس کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایف 22 جسے انیس سو اسی کی دہائی میں ڈیزائن کیا گیا تھا دفاعی حکمتِ عملی کے لحاظ سے اب مفید نہیں رہا۔

امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس نے امریکی فوج کی تعداد میں اضافہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ عارضی ہوگا۔

رابرٹ گیٹس نے کہا کہ اگلے تین برس میں امریکہ کو تقریباً بائیس ہزار اضافی فوجیوں کی ضرورت ہوگی۔ امریکی وزیرِ دفاع کے مطابق اضافی فوجیوں سے عراق اور افغانستان میں جاری امریکی آپریشنز پر جو دباؤ ہے وہ کم ہو جائے گا۔

رابرٹ گیٹس نے کہا کہ فوج کے سیکریٹری پی کیرین اور چیف آف سٹاف جنرل جارج کیسی کی سفارش اور صدر براک اوباما کی حمایت کے بعد ’میں آج امریکی فوج کی تعداد میں بائیس ہزار کے عارضی اضافے کے فیصلے کا اعلان کر رہا ہوں۔‘

ادھر افغانستان میں ایک بم دھماکے میں چار امریکی فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔ ان فوجیوں کی ہلاکت کے نتیجے میں اس برس جولائی کا مہینہ افغانستان میں موجود غیر ملکی افواج کے لیے مہلک ترین ثابت ہوا ہے کیونکہ اس مہینے میں اب تک نیٹو کے پچپن فوجی مارے جا چکے ہیں۔

بائیس ہزار مزید فوجیوں سے امریکہ کے متحرک فوجیوں کی کل تعداد پانچ لاکھ سینتالیس ہزار سے بڑھ کر پانچ لاکھ انہتر ہزار ہو جائے گی۔

امریکہ کے دفاعی بجٹ میں جس کا اعلان اس سال اپریل میں ہوا تھا امریکی فوجی قوت میں اضافے کے کے لیے گیارہ بلین ڈالر کی رقم مختص کی گئی تھی۔

رابرٹ گیٹس کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایف 22 جسے انیس سو اسی کی دہائی میں ڈیزائن کیا گیا تھا دفاعی حکمتِ عملی کے لحاظ سے اب مفید نہیں رہا۔