افغان صدارتی امیدواروں کے درمیان مباحثہ

نامہ نگاروں کا خیال ہے کہ صدارتی انتخاب میں جیت کا دارومدار علاقائی اہم شخصیات کے ساتھ سمجھوتوں پر ہے۔
،تصویر کا کیپشننامہ نگاروں کا خیال ہے کہ صدارتی انتخاب میں جیت کا دارومدار علاقائی اہم شخصیات کے ساتھ سمجھوتوں پر ہے۔

افغانستان میں صدر حامد کرزئی کی عدم شرکت کے باوجود صدارتی امیدواروں کے درمیان ہونے والا مباحثہ ٹی وی پر نشر کیا گیا۔

صدارتی امیدواروں کے درمیان ہونے والا یہ مباحثہ پرائیویٹ ٹی وی چینل ٹولو پر نشر کیا گیا۔

افغان صدر حامد کرزئی نے اپنے مشیروں کی اس رائے کے وجہ سے مباحثے میں شرکت کرنے سے معذوری ظاہر کی تھی کہ مباحثے میں ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جائے گا۔

سن دو ہزار چار کے بعد ہونے والے پہلے صدارتی انتخابات میں صدر حامد کرزئی سمیت اکتالیس امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ صدارتی انتخابات کے سلسلے میں پولنگ بیس اگست کو ہوگی۔

مباحثہ بیس منٹ تاخیر سے شروع ہوا اور پورے پروگرام کے دوران سٹیج کے مرکز صدر کرزئی کے لیے مخصوص کی گئی نشست خالی رہی۔

مباحثے کے دوران صدر حامد کرزئی کے دو بڑے حریفوں سابق وزیر خارجہ عبداللہ عبداللہ اور سابق وزیر خزانہ اشرف غنی نے اپنے اپنے منشور کی وضاحت کی۔

اگرچہ ٹولو افغانستان میں سب سے زیادہ دیکھا جانے والا ٹی وی چینل ہے، تاہم نامہ نگاروں کا خیال ہے کہ زیادہ تر افغانوں کی ٹی وی تک رسائی نہ ہونے کے باعث صدارتی انتخاب میں جیت کا دارومدار علاقائی اہم شخصیات کے ساتھ سمجھوتوں پر ہے۔

سابق وزیر خزانہ اشرف غنی جو عالمی بینک کے ایک سابق اعلیٰ عہدے دار ہیں مسلسل صدارتی امیدواروں کے درمیان مباحثہ کرانے کا مطالبہ کرتے چلے آ رہے ہیں۔

صدر حامد کرزئی کی طرف سے انتخابی مہم کے لیے تشکیل دی گئی ٹیم کا کہنا تھا کہ صدر کرزئی مباحثے میں شرکت نہیں کریں گے کیونکہ انتخابات میں حصہ لینے والے زیادہ تر امیدواروں کو مباحثے میں شرکت کرنے کی دعوت نہیں دی گئی۔

صدر حامد کرزئی کی ٹیم کا کہنا ہے کہ صدر حامد کرزئی کو مباحثے میں شرکت کرنے کی دعوت صرف ایک دن پہلے دی گئی تھی۔

افغان آئین کے مطابق صدارتی انتخابات مئی میں ہونا تھے لیکن سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال کے پیش نظر انہیں اگست تک ملتوی کر دیا گیا۔

صدارتی انتخابات کے اس التواء پر مبصرین نے کسی حیرت کا اظہار نہیں کیا تھا کیونکہ ملک کے جنوب اور مشرق میں واقع اکثر علاقے کو آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے لیے غیر محفوظ سمجھا جا رہا تھا۔

سکیورٹی کی صورتِ حال کو بہتر بنانے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں مزید امریکی فوجیوں کو ان علاقوں میں بھیجا جارہا ہے۔