’افغان جنگ سب کے مفاد میں‘

یورپی ممالک کو ’لڑائی کے موسم‘ میں مزید قربانیوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ جو بائڈن
،تصویر کا کیپشنیورپی ممالک کو ’لڑائی کے موسم‘ میں مزید قربانیوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ جو بائڈن

امریکہ کے نائب صدر جوزف بائڈن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئےکہا ہے کہ افغانستان میں جاری جنگ امریکہ اور برطانیہ دونوں کے مفاد میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے یہ جنگ بہت اہمیت رکھتی ہیں کیونکہ اگر ہم یہ جنگ نہیں لڑیں گے تو پاکستان کی سرحد سے متصل علاقوں میں موجود دہشت گرد عناصر یورپ اور امریکہ میں ’ تباہی مچا دیں گے۔‘

افغانستان میں حالیہ دنوں میں اتحادی افواج کی ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کے بعد برطانیہ میں یہ سوال بڑی شدت سے اٹھایاجا رہا ہے کہ آخر اس جنگ میں برطانوی فوج کو ڈالنے کی ضرورت کیا ہے؟

مسٹر بائڈن جو کہ ان دنوں یورپی ممالک کے دورے پر آئے ہوئے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ان ممالک کو ’لڑائی کے موسم‘ میں مزید قربانیوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

انہوں نے اس جنگ میں اوباما انتظامیہ کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ’یہی (پاکستان اور افغانستان) وہ علاقے ہیں جہاں سے امریکہ اور یورپی ممالک پر ہونے والے تمام حملوں کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔‘

مسٹر بائڈن نے برطانوی فوج کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ دنیا میں بہادر ترین جنگجو اور بہترین تربیت یافتہ فوج‘ ہے۔ لیکن انہوں نے برطانوی فوج کو دیے جانے والے سازو سامان کے معیار کے حوالے سے کیے جانے والے سوال پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

برطانوی فوج کے لیے افغانستان میں نامناسب سازوسامان کے حوالے سے برطانیہ میں سیاسی حلقوں میں اس وقت تشویش پیدا ہوئی جب دفتر خارجہ کے وزیر لارڈ براؤن نے صحافیوں کو بتایا کہ ’ہمارے پاس یقینی طور پر کافی ہیلی کاپٹرز نہیں ہیں۔‘ تاہم بعد میں انہوں نے اپنا یہ بیان واپس لے لیا تھا۔