مشرقِ وسطیٰ:’اچھی پیشرفت ہوئی ہے‘

مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی ایلیچی جارج مچل نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو کے ساتھ مذاکرات کے دوران خطے میں امن کا عمل آگے بڑھانے کے لیے اچھی پیش رفت ہوئی ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم اور امریکی ایلچی کا کہنا تھا کہ وہ یہودی بستیوں کے مسئلے پر جس کی وجہ سے اسرائیل اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی ہے، ایک نقطۂ نظر کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ تاہم اس بات کا کوئی عندیہ نہیں ملا کہ اسرائیل نے یہودی بستیوں کی تعمیر روکنے پر اتفاق کیا ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم نے اس سے پہلے یہودی بستیوں کی تعمیر پر پابندی کے امریکی مطالبے کو مسترد کر دیا تھا۔
امریکہ کے صدر براک اوباما کے قومی سلامتی کے مشیر جیمز جونز اور تجربہ کار سفارت کار ڈینس راس بھی مشرق وسطی پہنچے ہیں جہاں امریکہ کے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس اور مشرق وسطی کے لیے خصوصی نمائندے جارج مچل پہلے سے ہی موجود ہیں۔
جارج مچل نے اسرائیل اور فلسطین دونوں ہی پر زور دیا ہے کہ قیام امن کے لیے تلخ اقدامات سے منہ نہ موڑیں۔
قبل ازیں امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتھن یاہو سے ملاقات کے بعد ایران سے کہا تھا کہ وہ ستمبر تک سفارتی ذرائع سے جوہری معاملے کے حل کرنے کے بارے میں جواب دے۔
اسی دوران مشرق وسطی کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی جارج میچل نے مصر کے صدر حسنی مبارک، اسرائیلی صدر اور فلسطینی راہنماؤں سے ملاقات کی۔
اس سے قبل قیام امن کی کوششوں کے لیے حمایت حاصل کرنے کے لیے وہ شام کا دورہ کر چکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

امریکہ اور اسرائیل کے درمیان گزشتہ چند ماہ میں تعلقات اس وقت معمولی تلخی کا شکار ہو گئے تھے جب امریکہ کے صدر باراک اوباما نے اسرائیل سے مقبوضہ علاقوں میں تمام تعمیرات بند کرنے کو کہا تھا۔
صدر باراک اوباما نے اقتدار میں آنے کے فوراً بعد ایران کی طرف مذاکرات کا ہاتھ بڑھایا تھا اورکہا تھا کہ اگر ایران اپنی بند مٹھی کھولنے پر تیار ہو تو وہ اس کی طرف ہاتھ بڑھانے کو تیار ہیں۔
لیکن اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام پر شدید تشویش کا شکار ہے اور اسے اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ رکھنے کے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔
سوموار کو رابرٹ گیٹس نے کہا کہ تھا کہ ایران کو دی گئی پیش کش غیر معینہ مدت کے لیے نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ باراک اوباما کو توقع ہے کہ ایران ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل کوئی مثبت جواب دے گا۔
باراک اوباما نے خبردار کیا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں کسی بھی حل کو رد نہیں کیا گیا جس کا مطلب ہے کہ فوجی حل کو بھی رد نہیں کیا جا رہا۔





















