ایران میں طاقت کی کشمکش

ہم گزشتہ چند ہفتوں میں ایران میں ہونے والے ہیجان انگیز واقعات کو کس طرح سمجھ سکتے ہیں۔
تیس سال پہلے کے اسلامی انقلاب سے لے کر اب تک ایران میں فرقہ بندیوں، بحرانوں اور لڑائی جھگڑوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔
لیکن اب مختلف دور ہے۔ اس مرتبہ جھگڑے سب کے سامنے ہو رہے ہیں اور مفادات اس سے زیادہ نہیں ہو سکتے۔ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ایران ایک دوراہے پر ہے۔ حالیہ بحران کا محور سپریم رہنما کا کردار ہے۔ یہ وہ عہدہ ہے جو انقلاب کے بانی آیت اللہ خمینی نے تشکیل دیا تھا۔
اس عہدے کے حامل رہنما سیاسی قوت کی مثلث میں سب سے اوپر ہوتے ہیں اور سب اہم معاملات میں حتمی فیصلہ انہی کا ہوتا ہے۔
1989 میں آیت اللہ خمینی کی وفات کے بعد سے یہ عہدہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے پاس ہے جن کے پاس اس طرح کی خداداد قوت اور حشمت اور مذہبی اتھارٹی نہیں جو ان سے پہلے والے رہنما میں تھی۔
یہ جون میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں آیت اللہ کی مداخلت ہی تھی جس نے ملک کو اتنے بڑے سیاسی بحران سے دو چار کر دیا۔قدامت پسند رہنما احمدی نژاد کی بحیثیت فاتح حمایت کر کے انہوں نے سپریم رہنما کا روایتیی غیر جانبدارانہ کردار کھو دیا ہے جو انہیں سیاسی لڑائی جھگڑوں سے پرے رکھتا ہے۔
یونیورسٹی آف ہوائی کے ایران پر سیاسی تجزیہ نگار فریدی فرحی کہتے ہیں کہ ’یہ عہدہ اب غیر قانونی ہو گیا ہے۔ کیونکہ اب لیڈر نے جھکاؤ دیکھانا شروع کر دیا ہے۔ اور مظاہرین کے خلاف پرتشدد رویہ کی حمایت کی ہے۔‘
واشنگٹن ٹائمز کی باربرا سلاون جنہوں نے امریکی۔ایرانی تعلقات پر ایک کتاب لکھی ہے کہتی ہیں کہ اس کے متعلق کافی مفروضے ہوں گے لیکن یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ یہ صرف نافرمانی کی سزا کے طور پر کیا گیا ہو۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ ’اس کے علاوہ یہ بھی ممکن ہے کہ دیگر ایرانیوں کی طرح آیت اللہ خامنہ ای بھی یہ سمجھتے ہوں کہ ایران اور مغرب میں انتہائی تناؤ کے وقت ملک کو ایک مضبوط صدر کی ضرورت ہے نہ کہ کسی بزدل اصلاح پسند کی۔‘
لیکن اعلیٰ رہنما کے ذہن میں کچھ بھی ہو، یہ ایک بڑی غلطی تھی۔
صدر کی اُس وقت دوسری مدت کے لیے حمایت کرنے سے، جب اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ انتخابات فراڈ تھے، انتہائی بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔ اس سے یہ بھی ہوا کہ حکومت کا دو نیم فوجی قوتوں پر انحصار زیادہ ہو گیا۔ جن میں سے ایک پاسدارانِ انقلاب اور دوسری رضاکاروں پر مشتمل بسیج ملیشیا تھی۔
بہت سے مذہبی رہنما دنگ رہ گئے۔
واشنگٹن میں سینٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کے جون آلٹرمین کا کہنا ہے کہ ’اسلامی حکومت کا مقصد عوام کو رہنمائی دینا ہے، عوام کی پٹائی کرنا نہیں ہے۔‘
ان کا خیال ہے کہ ہو سکتا ہے کہ کچھ مذہبی رہنما یہ سوچنا شروع کر دیں کہ ’بہت ہو گیا ایک رہنما کے ساتھ۔ اب ہم تین رکھیں گے، ہم ایک کمیٹی تشکیل دیں گے۔ رہنما مشاورت کرے گا، رہنما اقتدار نہیں سنبھالے گا۔‘
جب صدر احمدی نژاد پانچ اگست کو صدارت کی دوسری مدت کے لیے حلف اٹھائیں گے تو حکومت ایک مشکل دوراہے پر کھڑی ہو گی۔اگر وہ جاری مظاہروں کے پیشِ نظر نرمی اختیار کرتی ہے تو اسے خفگی اٹھانا پڑے گی۔ اور اس کے برعکس اگر وہ طاقت کا استعمال کرتی ہے، جو کہ عین ممکن ہے کہ وہ کرے، تو اس کا مطلب ہو گا یہ ایک زخم خوردہ حکومت ہے جس کی ساکھ ختم ہو رہی ہے۔





















