افغان انتخابات، مہم کا آخری دن

صدارتی امیدوار ڈاکٹر عبداللہ
،تصویر کا کیپشنووٹنگ جمعرات کو ہوگی

افغانستان میں جمعرات کو ہونے والے صدارتی الیکشن کی مہم کا آج آخری دن ہے۔ طالبان نے انتخابات کے عمل میں خلل ڈالنے کی دھمکی دی ہے۔

ان انتخابات میں صدر حامد کرزئی کو تقریباً تیس دوسرے امیدواروں کا سامنا ہے جن میں ان کے دو سابق وزراء بھی شامل ہیں۔

شدت پسندوں نے خبردار کیا ہے کہ ووٹنگ میں حصہ لینے والوں کو نشانہ بنایا جائے گا اور اندیشہ ہے کہ بہت کم لوگ ووٹ ڈالنے آئیں گے۔انتخابی مہم میں ٹی وی پر براہِ راست مباحثے کے دوران صدر حامد کرزئی کے جنگجو سرداروں کے ساتھ اتحاد کو چیلنج کیا گیا۔

جمعرات کو ہونے والے صدارتی الیکشن سے قبل ٹی وی پر ایک براہِ راست مباحثے میں ان کے دو حریفوں سابق وزراء رمضان بشر دوست اور اشرف غنی نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا۔

نوے منٹ کے اس مباحثے میں صدر کرزئی نے یہ کہتے ہوئے اپنے اتحاد کا دفاع کیا کہ ایسا کرنا قومی سلامتی کے حق میں تھا۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ اتحاد جنگ سے بچنے اور قومی اتحاد کے لیے کیا۔

دریں اثناء سابق جنگجو سرداد عبدالرشید دوستم جو صدر کرزئی کے فوجی سربرارہ بھی رہ چکے ہیں کابل واپس آ گئے ہیں۔

عبدالرشید دوستم گزشتہ ایک سال سے ترکی میں جلا وطن تھے۔کابل میں امریکی سفارت خانے کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ عبدالرشید دوستم کے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے پر سوالات اٹھتے رہیں گے۔

اتوار کو طالبان نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس ہفتے ہونے والے انتخابات کا بائیکاٹ کریں ورنہ وہ پولنگ سٹیشنوں پر ہونے والے حملوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔

جمعرات کو ہونے والی ووٹنگ صدر اور صوبائی کونسل کے لیے ہے۔