افغانستان:انتخابی مہم ختم،پولنگ کی تیاری

عبداللہ عبداللہ کے جلسوں میں احمد شاہ مسعود کی تصاویر نظر آتی ہیں
،تصویر کا کیپشنعبداللہ عبداللہ کے جلسوں میں احمد شاہ مسعود کی تصاویر نظر آتی ہیں

افغانستان میں بیس اگست کو ہونے والے صدارتی انتخاب کے لیے انتخابی مہم پیر اور منگل کی درمیانی رات بارہ بجے ختم ہوگئی ہے۔

افغانستان کے صدارتی انتخاب میں موجودہ صدر حامد کرزئی، سابق وزیرخارجہ عبداللہ عبداللہ، سابق وزیرمالیات اشرف غنی اور سابق وزیر پلاننگ ڈاکٹر رمضان بشر دوست سمیت اکتالیس امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان امیدواروں میں دو خواتین شالا عطاءاور فروزاں فناءبھی شامل ہیں

قندھار میں رات گئے تک جاری انتخابی مہم میں ان امیدواروں کے نمائندوں نے کارنر میٹنگز سے خطاب کیا ہے۔تمام امیدوار اپنے ووٹروں کو امید دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ کامیاب ہو کر نہ صرف افغانستان میں امن قائم کریں گے بلکہ اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کریں گے۔ امیدواروں نے پہلی بار کھل کر طالبان سے مذاکرات کرنے اور انہیں حکومت کاحصہ بنانے کو اپنے منشور کاحصہ بنایا ہے۔

افغان انتخابی کمیشن کے مطابق افغانستان کے چونتیس صوبوں میں ساڑے ساٹھ ہزار پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے ہیں جس میں تقریباً اٹھارہ ملین ووٹر بیس اگست کوصدر کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالیں گے لیکن افغانستان کے آٹھ اضلاع میں امن وامان کی وجہ سے پولنگ نہیں ہوگی۔یہ اضلاع صوبہ وردگ، غزنی، قندہار، زابل اور فرح میں واقع ہیں جہاں طالبان کا کنٹرول ہے۔

تاہم قندھار میں انتخابی کمیشن کے سربراہ محمدقاہر واصفی کے مطابق قندھار کے سترہ میں سے پندرہ اضلاع میں انتخابی عملے کی تعیناتی اور انتخابی اشیاء پہنچانے کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ جومنگل تک مکمل ہوجائے گا۔ انتخابی کمشن کے سربراہ کے بقول کہ میاں شین اور غورک اضلاع میں حکومت کا کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے پولنگ سٹیشن قائم نہیں کیےگئے ہیں۔

طالبان نے افغانستان کے صوبہ قندھار، ہلمند، زابل اور غزنی میں ووٹر و ں کوخبر دار کیا ہے کہ وہ بیس اگست کوووٹ نہ ڈالیں۔طالبان کی جانب سے قندھار میں تقسیم ہونے والے ایک پمفلٹ میں کہاگیاہے کہ الیکشن کے دن طالبان کی جانب سے کسی بھی پولنگ سٹیشن پر حملہ ہوسکتاہے

قندھار افغانستا ن کا سب سے زیادہ شورش زدہ صوبہ ہے۔ یہ طالبان حکومت کامرکز تھا۔ طالبان کی حکومت گرنے کے بعد بھی طالبان اس صوبے میں با اثر ہیں۔خیال کیا جاتا ہے کہ قندھار کے دیہادتی علاقوں میں رہنے والے لوگ طالبان کے خوف سے ووٹ نہیں ڈالیں گے۔

قندھار میں پولیس کے سربراہ جنرل میروائس نورزئی کا کہناہے کہ حکومت نے پورے صوبے میں انتخابات کے موقع پر امن وامان برقرار رکھنے کےلیے سخت انتظامات کیے ہیں۔ پولیس اور افغان فوج کے ساتھ ساتھ کنیڈین فوج کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں قندھار شہر میں رہنے والے بعض شہریوں کا کہنا تھا کہ وہ طالبان کے دھمکیوں کے باوجودافغانستان کی تعمیرو ترقی کے لیے ووٹ ضروراستعمال کریں گے۔