افغان صدارتی انتخاب: ’ وسیع تر دھاندلی‘

افغان صدارتی انتخاب
،تصویر کا کیپشنپہلے سے ووٹوں سے بھرے ڈبے، ناخواندہ ووٹروں کو یہ بتانا کہ انہیں ووٹ کسے دینا ہے اور متعصب انتحابی افسران کی نشاندہی کی گئی ہے۔

افغانستان میں انتخابی مبصرین کا کہنا ہے کہ جمعرات کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی ہے اور دھونس دھمکیوں سے کام لیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں پہلے سے ووٹوں سے بھرے ڈبے، ناخواندہ ووٹروں کو یہ بتانا کہ انہیں ووٹ کسے دینا ہے اور متعصب انتحابی افسران کی نشاندہی کی گئی ہے۔

تاہم ان مبصرین میں یورپی یونین سے تعلق رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے دھونس دھمکیوں اور تشدد کے باوجود رائے دہندگی بالعموم اچھی اور منصفانہ تھی۔

اب تک حریفوں نے اپنی اپنی فتح کے دعوے کیے ہیں لیکن سرکاری طور پر کسی کی کامیابی کا اعلان نہیں کیا گیا۔

یورپی یونین کے مبصرین کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اس وقت انتحابات کے بارے میں حتمی رائے دینا قبل از وقت ہوگا۔

آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کی فاؤنڈیشن کی ابتدائی رپورٹ میں کئی طرح سے ووٹ ڈالے جانے، کم عمروں کے ووٹ ڈالنے اور امیدواروں کے نمائندوں کے پولنگ سٹیشنوں سے انتخابی افسران کے نکالے جانے کے واقعات کی تفصیلات بیان کی ہیں۔

الیکشن کا جائزہ لینے کے لیے سات ہزار مندوبین کو افغانستان بھر میں بھیجنے والی فاؤنڈیشن کا کہنا ہے مقامی عناصر، طالبان اور سیاسی حریفوں نے ووٹروں کو تشدد کی دھمکیاں دیں۔

انتخابی حکام کے اندازوں کے مطابق ووٹنگ کی شرح چالیس سے پچاس فیصد کے درمیان رہی اور اس کی تصدیق بھی ہوئی ہے جب کہ دو ہزار چار میں ہونے والے پہلے افغان صدارتی انتخابات میں ووٹنگ کی شرح ستر فیصد رہی تھی۔

یورپی الیکشن مبصرین مشن کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے دی جانے والی تشدد اور حملوں کی تمام تر دھمکیوں کے باوجود ووٹنگ نسبتاً پُر امن اور منظم رہی جو افغان عوام کی فتح ہے۔