’پاک افغان دوستی چاہتے ہیں‘

ولی کرزئی
،تصویر کا کیپشن’سوال یہ نہیں کہ طالبان کہاں ہیں بلکہ یہ ہےکہ پاکستان اور افغانستان کس طرح مل کر ان کاخاتمہ کریں‘

افغان صدر حامدکرزئی کے بھائی اورافغانستان کے ممتازسیاسی رہنما احمد ولی کرزئی نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے اب افغان طالبان کی حمایت بند ہو چکی ہے۔ انہوں نے لیکن یہ بھی کہا کہ طالبان قیادت اب بھی پاکستان میں موجود ہے جنہیں بعض قوتوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔

احمد ولی نے بلوچستان کے ایک قوم پرست رہنما براہمداغ بگٹی کی افغانستان میں موجودگی کی سختی سے تر دید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انڈیاسمیت کسی کوافغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

افغان صدارتی انتخابات کے بعد قندھار میں بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے خصوصی با ت چیت کرتے ہوئے احمد ولی کرزئی نے پاکستان کے ان الزامات کی تردید کی جس میں کہاجا رہا ہے کہ براہمداغ بگٹی افغانستان میں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں بلوچوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کے لیے دہشت گردی کی تربیت دی جا رہی ہو۔

ولی کرزئی نے کہا کہ افغانستان کوپاکستان کی بقاء اور سالمیت سب سے زیادہ عزیز ہے اور اس وقت پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جوکچھ ہو رہا ہے اسکی سب سے زیادہ تکلیف ہمیں ہے کیونکہ ہماری سرحد پشتون علاقو ں سے ملحقہ ہے۔

’ہم افغانستان میں ہیں اور پشتونوں کا آدھا حصہ پاکستان میں ہے، جوکچھ پشاور، باجوڑ، وزیرستان میں ہورہا ہے اس کی وجہ سے ہمیں کوئی خوشی نہیں ہورہی اور نہ ہی ہم پاکستان کے اندر اپنے پشتون بھائیوں کومشکلات میں دیکھ سکتے ہیں۔‘

انہوں نے پاکستان کے پشتون، بلوچوں، سندھیوں اور پنجابیوں کویقین دلانے ہوتے ہوئے کہا کہ افغان سرزمین کو کبھی بھی پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی کیونکہ ہم چاہتے ہیں کے دونوں ممالک کے درمیان اچھے تعلقات ہوں۔

’ہم دونوں ممالک کے درمیان آمد و رفت، تجارت، تعلیم اور دیگرشعبوں میں ایک دوسرے سے اور بھی زیادہ تعاون کر نے کے خواہشمندہیں کیونکہ لاکھوں افغان تیس سال تک پاکستان میں رہے ہیں اور میں خود بھی پندرہ سال تک پاکستان میں رہا ہوں۔‘

پاکستان کی جانب سے قندھار اور جلال آباد میں ہندوستان کے سفارتخانوں پر اعتراضات اور الزاما ت کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں احمد ولی کرزئی نے کہا کہ انڈیا کے سفارتخانے آج سے نہیں بلکہ چالیس سال سے افغانستان میں موجود ہیں مگر آج تک شواہد نہیں ملے ہیں کہ جس سے ظاہر ہو کہ انڈیا افغانستان میں پاکستان کے خلاف کوئی کام کر رہا ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان جوسیاسی معاملات ہیں ان سے افغانستا ن کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

طالبان لیڈرشپ کی پاکستان میں موجودگی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں حامدکرزئی کے بھا ئی نے کہا کہ اب یہ سوال نہیں ہے کہ طالبان کہاں ہیں بلکہ سوال یہ کہ پاکستان اور افغانستان کس طرح مل کر ان کاخاتمہ کریں۔ تاہم احمدولی نے اعتراف کیا کہ پاکستان کی موجودہ حکومت ابھی طالبان کی حمایت نہیں کر رہی لیکن کچھ قوتیں ایسی ہیں جو طالبان کی حمایت کر رہی ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک کے چند ہفتوں قبل دورہ افغانستان کے موقع پر افغان حکومت سے نہ صرف براہمداغ بگٹی کو پاکستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا بلکہ شرم الشیخ کانفرنس کے موقع پر پاکستان نے ہندوستان کے سامنے پہلی بار مسئلہ بلوچستان اٹھایا تھا، بلکہ کہا تھا کہ بلوچستان میں ہندوستان کی مداخلت کی وجہ سے امن وامان کی صورتحال خراب ہے اور دونوں ممالک کے درمیا ن تعلقا ت کی بہتری کے لیے کشمیر کے ساتھ ساتھ مسئلہ بلوچستان پر بھی بات ہونی چاہیے۔