’سرد مہری کے خاتمے کی ایک کوشش‘

جنوبی کوریا کے صدر لی میونگ بک نے شمالی کوریا کے اعلٰی حکام سے جنوبی کوریا کےدارالحکومت سیول میں ملاقات کی ہے۔
یہ ملاقات اتوار کے روز جنوبی کوریا کے سابق مرحوم صدر کم ڈے جونگ کی آخری رسومات کی ادائیگی سے تھوڑی دیر قبل ہوئی ہے۔
چھ حکام پر مشتمل یہ وفد شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اِل کا یہ پیغام ساتھ لائے تھے کہ وہ دونوں ممالک کی مشکلات میں کمی لانا چاہتے ہیں۔
شمالی کوریا کے رہنماؤں اور جنوبی کوریا کے صدر کے مابین ہونے والی اس ملاقات کو بہت اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ شمالی کوریا مسٹر لی کو غدار قرار دے چکا ہے۔
مسٹر لی کے ترجمان نے اس پیغام کے متن کو حساس نوعیت کا قرار دے کر اسے منظر عام پر لانے سے انکار کر دیا تھا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس پیغام میں شمالی کوریا کے صدر مسٹر کم نے دونوں ممالک کے مابین تعاون بڑھانے پر زور دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسٹر لی نے اس کے جواب میں اپنی حکومت کے اس ’مستحکم‘ عزم کو دوہرایا کہ شمالی کوریا اپنا جوہری پروگرام ترک کر دے۔
پیونگ یانگ کے وفد کے رہنما کم کی نام نے بھی کہا کہ ’یہ ملاقات اچھی رہی‘ تاہم انہوں نے بھی کوئی تفصیل دینے سے انکار کر دیا۔ شمالی اور جنوبی کوریا کے حکام نے تقریباً دو سال کے بعد غیر متوقع طور پر گزشتہ روز جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں ملاقات کی تھی۔
شمالی کوریا نے حال ہی میں میزائل تجربے کیے تھے لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اب وہ خطے میں بہتر تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا پر اقوام متحدہ کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں کا اثر ظاہر ہو رہا ہے اور شمالی کوریا چاہتا ہے کہ دونوں ملکوں کے مابین سیاحت اور تجارت کو فروغ ملے تاکہ اس کی غیر ملکی زر مبادلہ کی ضرورت کو پورا کیا جا سکے۔
شمالی کوریا کی بر سر اقتدار ورکرز پارٹی کے چھ اہلکاروں نے جمعہ کو جنوبی کوریا کے سابق صدر کم ڈے ژونگ کی یادگار پر پھول بھی چڑھائے تھے۔
جنوبی کوریا کے نوبل انعام یافتہ سابق صدر کم ڈے ژونگ منگل کو تراسی برس کی عمر میں انتقال کرگئے تھے۔ کم ڈے ژونگ نے اپنی زندگی شمالی کوریا کے ساتھ دوبارہ یکجا ہونے کی کوششیں کرنے میں وقف کر دی تھی۔




















