حامد کرزئی کو اپنے حریف پر برتری

افغانستان میں صدارتی الیکشن میں اب تک سامنے آنے والے سرکاری نتائج کے مطابق صدر حامد کرزئی کو اپنے مخالف امیداوار پر برتری حاصل ہے۔
افغان الیکشن کمیشن کے مطابق اب تک سامنے آنے والے نتائج میں حامد کرزئی نے چھیالیس فیصد سے زائد جبکہ عبداللہ عبداللہ نے اکتیس اشاریہ چار فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں۔
یہ نتائج پورے ملک کے پولنگ سٹیشنوں کی کل تعداد کے ایک تہائی پولنگ سٹیشنوں سے موصول ہونے والے نتائج پر مبنی ہیں۔
ادھر افغان صدر حامد کرزئی کے اہم مخالف ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے ایک مرتبہ پھر پولنگ میں ’ریاست کی جانب سے بڑے پیمانے پر فراڈ‘ کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ بیلٹ باکسوں کو ہزاروں کی تعداد میں ووٹوں سے بھرا گیا تھا۔
انہوں نے کہا ’مجھے بڑے پیمانے پر ہونے والی دھاندلی، پورے ملک میں ریاست کی جانب سے کیے گئے فراڈ پر تشویش ہے‘۔
مسٹر عبداللہ نے کہا ’کیا انتخابات کے نتائج لوگوں کے ووٹوں پر مبنی ہوں گے یا پھر بڑے پیمانے پر ہونے والے فراڈ پر‘۔
ان کے یہ بیانات ایک ایسے وقت پر سامنے آئے ہیں جب کچھ روز قبل ہی افغانستان کے لیے خصوصی امریکی ایلچی رچرڈ ہالبروک نےامیدواروں کی طرف سے بیلٹ باکسوں کو ووٹوں سے بھرنے کے الزامات پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ تاہم حکام نے صدر حامد کرزئی اور رچرڈ ہالبروک کی اس ملاقات میں ’گرما گرمی‘ ہونے کی اطلاعات کو رد کیا ہے۔
افغان الیکشن کمیشن کا اب بھی یہی کہنا ہے کہ انتخابات میں بےضابتگیوں کی بہت کم شکایات موصول ہوئی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی





















