افغانستان: درجنوں انتخابی عذرداریاں

افغانستان میں انتخابی عذرداریوں کے کمیشن نے کہا ہے کہ اُسے بیس اگست کے صدارتی انتخابات میں بے ضابطگیوں کی اب تک جو شکایات ملیں ہیں اُن سے انتخابی نتائج پر فرق پڑ سکتا ہے۔
کمیشن کے سربراہ گرینٹ کیپن نے کابل میں ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ ادارے کو اب تک دو سو پچیس شکایات ملی ہیں جن میں سے پینتیس کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ شکایات میں ووٹروں کو ڈرانے دھمکانے، تشدد ، بیلٹ باکس میں گڑبڑ اور انتخابی عملے کی جانب سے مداخلت جیسے الزامات شامل ہیں۔
لیکن الیکشن کمیشن کے ایک ترجمان داود علی نجفی نے کہا ہے کہ کیشن نے انتخابات میں دھاندلی کو روکنے کے لیے اقدامات کیے تھے۔
ترجمان داود علی نجفی نے کہا کہ ’ہم نے انتخابی نتائج کی پانچ کاپیاں بنائی ہیں جن میں ایک ہی طرح کی معلومات درج ہیں۔ ہر کاپی میں امیدواروں، مبصرین اور پولنگ اسٹیشن کے اہلکاروں کے دستخط ہیں۔ اگر ایک کاپی ضائع ہو جائے، اُسے جلا دیا جائے تو بقیہ چار موجود ہوں۔ اِسی بنیاد پر الیکشن کمیشن تمام امیدواروں کو یقین دہانی کراتا ہے کہ حتمی نتائج میں اُن کاپیوں کو شامل کیا جائے گا۔ اِس بات میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ نتائج میں کوئی دھاندلی ہو سکے گی۔‘
تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ تشدد کی وجہ سے کئی ووٹر انتخابات میں حصہ نہیں لے سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے آٹھ اضلاع ہیں جو حکومت مخالف عناصر کے قبصے میں ہیں جہاں حکومت انتخابات کے انعقاد کے قابل نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ اِن علاقوں میں تقریباً ایک لاکھ ستر ہزار ووٹر ہیں اور یہ تعداد ملک کے کل رائے دہندگان کا تقریباً ایک فیصد بنتی ہے۔
ادھر افغان صدر حامد کرزئی کے اہم مخالف ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے الزام لگایا ہے کہ پولنگ میں بڑے پیمانے پر بےضابطگیاں ہوئی ہیں۔
ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ ’آج میری توجہ کا مرکز بڑا فراد ہے، جی ہاں بڑا فراڈ، جس کا انتخابات کے نتائج پر اثر پڑ سکتا ہے۔ اِسے ہر صورت میں روکا جانا چاہیے۔ ایسا کرنا انتخابی عمل کی بقا کے لیے ضروری ہے۔‘
بیس اگست کو ہونے والے انتخابات کے ابتدائی سرکاری نتائج اگلے چند دنوں میں متوقع ہیں۔ صدر حامد کرزئی کے حامیوں کا دعوی ہے کہ انہیں اکثریت حاصل ہے لیکن ڈاکٹر عبدللہ عبدللہ کا اصرار ہے کہ زیادہ تر صوبوں میں وہ جیتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے پہلے افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک نے زور دیا ہے کہ الیکشن کمیشن اور انتخابی عذرداریوں کے کمیشن کے نتائج آنے تک صبر سے کام لیا جائے۔





















