افغان انتخابات: دھاندلیوں کے تازہ الزام

افغانستان کے صدارتی انتخابات میں اہم امیدوارعبداللہ عبداللہ نےگزشتہ ہفتے کے الیکشن میں بڑے پیمانے پر دھاندلیوں کا الزام لگایا ہے۔
مسٹر عبداللہ کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایسی شہادتیں موجود ہیں جن میں صدر کرزئی کے حق میں ووٹنگ میں گڑ بڑی کی گئی۔انہوں نے کہا کہ یہ شکایات تحقیقات کے لیے انتخابی کمیشن کو بھیج دی گئی ہیں۔
انتخابی مبصرین کے ایک اہم گروپ نے بھی کہا ہے کہ جمعرات کے الیکشن میں ووٹنگ میں دھاندلیاں کی گئیں اور ووٹروں کو ڈرایا دھمکایا گیا ہے۔
حامد کرزئی اورعبداللہ عبداللہ دونوں ہی کی انتخابی مہم کی ٹیموں نے اپنے اپنے امیدوار کی کامیابی کا دعوی کیا ہے۔آئندہ کچھ دنوں میں ابتدائی نتائج سامنے آ جائیں گے تاہم مکمل نتائج آنے میں کئی ہفتے لگیں گے۔
سابق وزیر خارجہ عبداللہ عبداللہ نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ٹیم کو بتایا گیا ہے کہ کچھ علاقوں میں کچھ ہی ووٹ ڈالے گئے ہیں جبکہ باقی بیلٹ پیپرز پر حامد کرزئی کے حق میں مہریں لگائی گئیں۔
ان کا کہنا ہے کہ’ملک بھر میں ہزاروں دھاندلیاں کی گئی ہیں‘۔
دریں اثناء الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اسے انتخابی دھاندلیوں کی دو سو سے زائد شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں ووٹروں کو ڈرانے دھمکانے،تشدد اور بیلٹ بکسوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی شکایت شامل ہیں۔
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ کسی خاص امیدوار کے خلاف مخصوص شکایت نہیں ملی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
افغان اور مغربی اہلکاروں نے جمرات کے صدارتی انتخابات میں کم ووٹنگ کے باوجود انہیں کامیاب قرار دیا ہے۔افغانستان میں امریکہ کے خصوصی ایلچی رچرڈ ہولبروک کا کہنا ہے کہ دھاندلیوں کے الزامات متوقع تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعد وہ انتخابات پر کوئی تبصرہ کریں گے۔





















