افغانستان: نیٹو کے چار فوجی ہلاک

جنوبی افغانستان میں سوموار کو سڑک کے کنارے بم پھٹنے کے مختلف واقعات میں چار نیٹو فوج ہلاک ہوگئے ہیں جس کے بعد گزشتہ آٹھ سال سے جاری افغان جنگ میں اگست کا مہینہ جانی نقصان کے اعتبار سے سب سے زیادہ خـونی ثابت ہوا ہے۔
سوموار کو ہلاک ہونے والے فوجیوں میں سے دو کا تعلق امریکہ اور دو کا برطانیہ سے تھا۔
برطانوی وزارتِ دفاع نے افغانستان میں مزید دو برطانوی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تصدیق کر دی ہے جس سے افغانستان میں اب تک ہلاک ہونے والے برطانوی فوجیوں کی تعداد دو سو دس ہو گئی ہے۔
سن دو ہزار ایک میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد سے افغانستان میں اب تک تیرہ سو باؤن غیر ملکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے آٹھ سو دس کا تعلق امریکہ سے تھا۔
سوموار کو ہلاک ہونے والے دونوں برطانوی فوجی ’دی بلیک واچ تھرڈ بٹالین دی رائل ریجمنٹ آف سکاٹ لینڈ‘ سے تھے۔ یہ فوجی ہلمند صوبے میں لشکر گاہ کے شمال میں پیدل گشت کے دوران ایک دھماکے سے مارے گئے۔
اطلاعات کے مطابق امریکی فوجی بھی جنوبی افغانستان میں ہی سڑک کے کنارے بم پھٹنے کے واقعات میں ہلاک ہوئے۔
اس سال کے شروع میں صدر اوباما کی طرف سے مزید اکیس ہزار امریکی فوجی افغانستان بھیجنے کے بعد سے امریکی فوج کے جانی نقصان میں اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت افغانستان میں موجود غیر ملکی فوجیوں کی کل تعداد تقریباً ایک لاکھ کے قریب ہے جس میں باسٹھ ہزار امریکی اور نو ہزار برطانوی فوجی شامل ہیں۔
اپریل کے مہینے میں چھ امریکی فوجی ہلاک ہوئِے۔ اس کے بعد مئی میں مرنے والے امریکی فوجیوں کی تعداد بارہ ہو گئی۔ جون میں یہ تعداد ایک مرتبہ پھر دگنی ہو کر چوبیس ہو گئی جبکہ جولائی میں چوالیس اور اگست میں سینتالیس امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی فوجی کمک افغانستان پہنچنے کے بعد، امریکی دستوں نے جنوبی افغانستان میں ’آپریشن خنجر‘ جبکہ برطانوی فوج نے صوبہ ہلمند میں ’آپریشن پینتھر کلاء‘ یا شیر کے پنجے کے نام سے فوجی کارروائی شروع کی تھی۔
گزشتہ روز ہی برطانوی فوج کو ہلمند کے علاقے میں اپنا ایک شنوک ہیلی کاپٹر اس وقت خود تباہ کرنا پڑا تھا جب ایک کارروائی کے دوران اس کو شدید نقصان پہنچا تھا اور برطانوی فوج کو خدشہ تھا کہ یہ ہیلی کاپٹر طالبان کے ہاتھ لگ جائے گا۔ ایک ہفتے کے دوران یہ اپنی نوعیت کا دوسرا واقع تھا جب برطانوی فوج کو خود ہی اپنا ہیلی کاپٹر تباہ کرنا پڑا ہوا۔
یہ تازہ ہلاکتیں ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے نئے سربراہ جنرل اسٹینلی میک کرسٹل نے فوجی حکمت عملی پر ایک تازہ رپورٹ میں افغانستان میں سکیورٹی کی صورت حال کو نازک قرار دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ یہاں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔
اس رپورٹ پر امریکی اخبارات نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنرل میک کرسٹل نے اس رپورٹ کے ذریعے صدر اوباما سے مزید امریکی فوج افغانستان فوج بھیجنے کا مطالبہ کرنے کے لیے زمین ہموار کی ہے۔
گزشتہ ہفتے وزیر اعظم گورڈن براؤن نے افغانستان میں تعینات فوجیوں کو بہتر آلات مہیا کرنے کا وعدہ کیا تھا تاکہ انہیں سڑک کے کنارے نصب بموں کے حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔
افغانستان کے غیر اعلانیہ دورے کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ اس سال کے آخر تک سڑک کے کنارے نصب بموں کا پتہ لگانے اور ان کو ناکارہ بنانے کے دو سو مزید ماہرین کو افغانستان بھیجا جائے گا۔
انہوں نے کہا تھا کہ حکومت دفاعی بجٹ کے علاوہ بغیر پائلٹ والے جاسوسی طیارے اور بہتر گاڑیاں مہیا کرنے کے لیے پیسہ فراہم کرے گی۔
ان کے منصوبے میں پچاس ہزار کے قریب افغان فوجیوں کو تربیت دینا بھی شامل ہے۔






















