افغانستان:بم دھماکے میں اکیس ہلاک

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنافغانستان میں رواں سال شہریوں کی ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے

حکام کے مطابق افغانستان میں سڑک کے کنارے نصب بم پھٹنے سے کم از کم اکیس افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے ہیں۔

ہلاک ہونے والے افراد جنوبی اففانستان میں شادی کی ایک تقریب میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔

صوبہ ہلمند میں پولیس کے سربراہ اسد اللہ شیرازی نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا ہے کہ ضلع گرمسر میں ہلاک ہونے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد ٹریکٹر ٹرالی پر شادی میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔

حکام کے مطابق اس علاقے میں غیر ملکی اور افغان فوج کو نشانہ بنانے کے لیے اکثریت سے سڑک کے کنارے بم نصب کیے جاتے ہیں۔خیال رہے کہ اس وقت صوبہ ہلمند میں ہزاروں کی تعداد میں نیٹو کے فوجی آپریشن کر رہے ہیں۔

دوسری جانب افغانستان کے دورے پر آئے نیٹو کے سیکریٹری جنرل اینڈرز فو راسمسان نے کہا کہ وہ افغانستان میں شہریوں کے جانی نقصان کو کم سے کم کرنے کے بارے میں پرعزم ہیں۔اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی بار افغانستان کے دورے پر پہنچنے پر سیکرٹری جنرل نے افغان صدر حامد کرزائی سے ملاقات میں کہا کہ نیٹو کا منصوبہ سلسلہ وار سکیورٹی کے انتظامات افغان حکومت کے حوالے کرنے کا ہے۔

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنشہریوں کی ہلاکتوں کو انتہائی کم کرنے کی کوشش کا مقصد عوام کاغم و غصہ کم کرناہے: نیٹو سیکریٹری جنرل

سیکرٹری راسمسان نے کہا کہ آئندہ صدارتی انتخابات میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کی شرکت کو یقنی بنایا جائے گا۔

بی بی سی کے نامہ نگار آدم مائینوٹ کے مطابق دو ہزار ایک میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے رواں سال سب سے زیادہ پر تشدد رہا ہے۔ نامہ نگار کے مطابق رواں ماہ بیس اگست کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں مقابلہ طالبان سے ہو گا جہنوں نے انتخاب کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل سخت سکیورٹی میں کابل پہنچے اور وہاں سے سیدھے افغان صدر سے ملاقات کرنے چلے گئے اور دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ ملاقات ایک گھنٹے تک جاری رہی۔ڈنمارک کے سابق وزیراعظم راسمسان نے کہا کہ اگرچہ نیٹو کی کارروائی کے دوران شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں لیکن ہم اس بات کا عزم کرتے ہیں کہ افغانستان میں ایسی ہلاکتوں کو انتہائی کم کیا جائے گا تاکہ لوگوں کے غم و غصہ کم کیا جائے گا۔

کابل میں نیوز کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری کامیابی اسی میں ہے کہ افغانستان میں سکیورٹی کے معاملات افعان سکیورٹی اہلکاروں کے سپرد کر دیے جائیں اور وہ ہی امن و امان کے ذمہ دار ہوں۔