افغان الیکشن فراڈ کا الزام شدید تر

افغانستان میں صدارتی الیکشن میں مبینہ فراڈ کا تنازع شدت اختیار کر گیا ہے اور ملک کے جنوبی حصہ ایک قبیلے نے صدر حامد کرزئی کے خلاف فراڈ کے اب تک کے سب سے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
قندھار کے باریز قبیلے کے ایک رہنما نے کہا ہے کہ ان کے قبیلے کے تیس ہزار کے قریب ووٹ بدعنوانی کر کے ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کی بجائے صدر حامد کرزئی کو ڈالے گئے۔
صدر حامد کرزئی کے بھائی اور قندھار کی صوبائی کونسل کے سربراہ احمد ولی کرزئی نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
افغانستان کا الیکٹورل کمپلینٹس کمشن فراڈ کی دو ہزار سے زائد شکایات کا جائزہ لے رہا ہے۔
بی بی سی فارسی ٹی وی کے داؤد قاری زادہ سے گفتگو کرتے ہوئے باریز قبیلے کے رہنما حاجی محمد باریز نے کہا کہ ایک ضلع میں بیلٹ بکسوں کو غیر قانونی طریقے سے صدر کرزئی کے حق میں جعلی ووٹوں سے بھرا گیا۔
باریز قبیلے کا خیال ہے کہ اس کو حقِ رائے دہی سے محروم رکھا گیا اور الیکٹورل کمپلینٹس کمشن سےمطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کرے۔
باریز قبیلے نے الیکشن کے پہلے فیصلہ کیا تھا کہ وہ حامد کرزئی کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے اور وہ سابق وزیر خارجہ اور صدر کرزئی کے مدمقابل صدارتی امیدوار ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کی حمایت کرے گا۔
حاجی محمد باریز کے مطابق الیکشن کے روز ان کے علاقے میں پولنگ سٹیشنوں کو تالے لگا دیئے گئے اور بیلٹ بکسوں کو قندھار لے جا کر صدر حامد کرزئی کے حق میں ووٹوں سے بھرا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’شورابک ضلع میں کسی نے بھی الیکشن میں حصہ نہیں لیا۔ یہاں کوئی بیلٹ بکس نہیں لایا گیا۔ انہوں نے خود ہی بیلٹ بکسوں کو ووٹوں سے بھرا۔ میری معلومات کے مطابق اس ضلع سے انتیس ہزار آٹھ سو تئیس جعلی ووٹ بھگتائے گئے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ صرف ووٹر کارڈوں اور بیلٹ پیپروں کی جانچ پڑتال سے ان کا الزام صحیح ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسری طرف صدر حامد کرزئی کے بھائی اور قندھار کی صوبائی کونسل کے سربراہ احمد ولی کرزئی نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ الزام سراسر جھوٹا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کے پاس اس سلسلے میں کوئی شکایت ہے تو اسے شکایت آفس سے رابطہ کرنا چاہیے۔
اس سے پہلے افغان صدر حامد کرزئی کے اہم مخالف ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے بھی پولنگ میں ’ریاست کی جانب سے بڑے پیمانے پر فراڈ‘ کا الزام لگایا تھا۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ بیلٹ بکسوں کو ہزاروں کی تعداد میں ووٹوں سے بھرا گیا۔
انہوں نے کہا ’مجھے بڑے پیمانے پر ہونے والی دھاندلی، پورے ملک میں ریاست کی جانب سے کیے گئے فراڈ پر تشویش ہے‘۔
مسٹر عبداللہ نے کہا ’کیا انتخابات کے نتائج لوگوں کے ووٹوں پر مبنی ہوں گے یا پھر بڑے پیمانے پر ہونے والے فراڈ پر‘۔





















