انٹیلیجینس اہلکار سمیت بائیس ہلاک

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنخود کش بمبار نے سرکاری افسران کے ہجوم میں خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ یہ افراد یہاں ایک تقریب کے سلسلے میں جمع تھے۔

افغانستان کے صوبہ لغمان میں ایک خود کش حملے میں اکیس دیگر افراد کے علاوہ انٹیلیجینس ادارے کے نائب سربراہ ہلاک ہوگئے ہیں۔یہ حملہ مہتار لام کے قصبے میں واقع ایک مسجد ہوا جس میں عبداللہ لغامانی ہلاک ہوئے۔

مسٹر لغمانی سکیورٹی کے نیشنل ڈائریکٹوریٹ میں اہم ترین پوزیشن کے حامل تھے اور مجرموں اور بغات کرنے والے گروہوں کے خلاف جنگ میں کافی متحرک تھے۔

طالبان کے ایک ترجمان نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ خود کش بمبار نے عبداللہ لغمانی کو نشانہ بنا کر ہلاک کیا ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کی طرف سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان میں افیون کی کاشت میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے دفتر کے مطابق افغانستان میں ایک برس میں افیون کی پیداوار میں دس اور کاشت میں بائیس فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

یورپی اور امریکی نمائندے افغانستان پر نئی حکمتِ عملی پر تبادلۂ خیال کرنے کے لیے پیرس میں ملاقات کر رہے ہیں۔ اس اجلاس میں افغانستان میں بیس اگست کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں بدعنوانی کے الزامات کے سلسلے میں ایک متحدہ ردِعمل بھی اس اجلاس میں زیرِ غور آنے کی توقع ہے۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق موجودہ صدر حامد کرزئی کو اپنے حریف پر تھوڑی سے سبقت حاصل ہے۔

اطلاعات کے مطابق خود کش بمبار نے سرکاری افسران کے ہجوم میں خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ یہ افراد یہاں ایک تقریب کے سلسلے میں جمع تھے۔

صوبے کے گورنر لطف اللہ نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ اس حملے میں بائیس افراد ہلاک جبکہ پینتیس زخمی ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ مقامی حکومت کے تین سینئر اہلکار بھی اس حملے میں ہلاک ہوئے ہیں۔ لیکن ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد عام شہریوں کی ہے جن میں تین خواتین بھی شامل ہیں۔

طالبان کے ایک ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایک عینی شاہد کے حوالے سے بتایا کہ اس نے دیکھا کہ ایک پِک اپ ٹرک زخمیوں کو لے کر جا رہا تھا جو سب کے سب خون میں لت پت تھے۔

موقع سے آٹھ ایمبولینس گاڑیاں جلال آباد کے لیے روانہ ہوئیں جو جائے حملہ کے قریب بڑا شہر ہے۔